جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

سعودی سلامتی اور یمن فوج بھیجنا ’دو الگ معاملے ‘ گڈمڈ کرنا درست نہیں: اعتزاز

datetime 15  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے سرکردہ رہنما اور ممتاز قانون داں، اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور یمن فوج بھیجنا ’دو الگ الگ معاملے ہیں‘ جنھیں باہم گڈمڈ کرنا درست نہیں‘۔’اس حوالے سے، پاکستان کی پالیسی بلکل واضح ہے۔’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے، بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ پارلیمنٹ نے یمن کے معاملے میں غیر جانبدار رہنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ا±ن کے الفاظ میں، ’قوم اس حوالے سے مخمصے میں نہیں۔ اب کوئی امکان نہیں کہ پاکستانی فوج یمن میں داخل ہو‘۔’تاہم، پارلیمنٹ کے اِس فیصلے سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو ضرور دکھ پہنچا ہوگا، جس کا اظہار دبئی کے جونیئر وزیر نے کیا‘۔اعتزاز احسن نے واضح کیا کہ ’سعودی عرب یا مقدس شہروں کو خطرہ ہوا تو پاکستانی قوم اپنے جذباتی لگاو¿ کے باعث اس جنگ میں کودنے پر مجبور ہوسکتی ہے‘۔لیکن، ا±نھوں نے کہا کہ، ’سعودی عرب کی سلامتی اور یمن میں فوجیں بھیجنے کا مطالبہ، دو الگ الگ معاملے ہیں۔‘ا±نھوں نے کہا کہ ’جب پاکستانی فوج کے یمن جنگ میں شرکت کا امکان ہی نہیں تو پھر اس کی کمانڈ کا سوال کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟‘ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا افغانستان سمیت دیگر ممالک میں فوجیں داخل کرنے کا تلخ تجربہ ہے۔ قوم اس تجربے کو دوہرانے کی متحمل نہیں ہوسکتی‘۔اِسی پروگرام میں شریک رکن قومی اسمبلی اور خارجہ کمیٹی کے رکن، اویس لغاری نے اس امکان کو مسترد کردیا کہ یمن فوج نہ بھیجنے پر سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے پاکستانیوں کی بے دخلی ہوسکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستانیوں نے ان ممالک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ’ایسا کوئی امکان نہیں کہ ردعمل کے طور پر پاکستانیوں کے خلاف انتقامی کارروائی ہو‘۔انھوں نے کہا کہ پاکستان دو برادر ممالک کے درمیان مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرانا چاہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…