پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے،ایران

datetime 30  ستمبر‬‮  2017 |

تہران/لندن (آئی این پی)ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ اس ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا جس کے تحت ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیںتاہم جواد ظریف نے یہ بھی کہا کہ انھیں امید ہے کہ یورپ اس معاہدے کو زندہ رکھنے میں کردار ادا کرے گا۔دو برطانوی اخباروں کو انٹرویو دیتے ہوئے جواد ظریف نے کہا کہ اگر

معاہدہ ختم ہو گیا تو ایران یورینیئم کی افزدوگی، سینٹری فیوجز کی تعداد اور پلوٹونیئم کی تیاری پر عائد پابندیوں کی پاسداری نہیں کرے گا۔تاہم انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایٹمی توانائی کو صرف پرامن مقاصد کے استعمال کرنا چاہتا ہے۔انھوں نے نیویارک میں فائنینشل ٹائمز اور گارڈین کو بتایا کہ ‘میرا اندازہ یہ ہے کہ وہ(ٹرمپ) تصدیق نہیں کریں گے، اور وہ کانگریس کو فیصلہ کرنے دیں گے۔’اس معاہدے کے تحت ایران کو اجازت ہے کہ وہ تحقیق جاری رکھے۔ اس لیے ہم نے اپنی ٹیکنالوجی بہتری بنائی ہے۔ اگر ہم معاہدے کو ترک کرتے ہیں تو ہمیں بہتر ٹیکنالوجی کے ساتھ ایسا کرنا چاہیے۔انھوں نے صدر ٹرمپ کے بارے میں کہا: ‘میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے ناقابلِ پیشن گوئی ہونے کو بطور پالیسی اپنا رکھا ہے، اور اب وہ ناقابلِ اعتبار بھی بنتے جا رہے ہیں۔ انھوں نے اس معاہدے کے الفاظ، روح اور ہر چیز کی مخالفت کی ہے۔جواد ظریف نے کہا کہ ایران کے پاس موجود راستوں ‘کا انحصار اس بات پر ہے کہ بین الاقوامی برادری امریکہ سے کیسے نمٹتی ہے۔ اگر یورپ، جاپان، روس اور چین امریکہ کے ساتھ جانے کا فیصلہ کریں تو پھر میرے خیال سے معاہدہ ختم ہو جائے گا۔انھوں نے مزید کہاکہ یورپ کو قیادت سنبھالنی چاہیے۔ یورپی یونین کے حکام نے کہا ہے کہ اگر امریکہ دوبارہ پابندیاں عائد کر دیتا ہے تو وہ ایران میں اپنے مفادات کا قانونی طریقے سے تحفظ کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…