پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

چھٹی صدی ہجری کا سرائیکی شعری مجموعہ کا قلمی نسخہ دریافت ، شائع کردیاگیا

datetime 14  اپریل‬‮  2015 |

ملتان(نیوز ڈیسک) معروف محقق اور زکریایونیورسٹی شعبہ سرائیکی کی اسسٹنٹ پروفیسر نسیم اختر نے چھٹی صدی ہجری کے سرائیکی شعری مجموعہ کا ایک قلمی نسخہ دریافت کیا ہے جسے’’ ذبح نامہ ‘‘کے نام سے شائع بھی کردیاگیا ہے۔یہ نسخہ نامور محقق اور دانشور ڈاکٹر مہر عبدالحق کی لائبریری کاحصہ تھا اور اس پر ان کی لائبریری کی مہر بھی ثبت ہے۔پروفیسر نسیم اختر نے ذبح نامہ کاعلمی ولسانی تجزیہ کیا ،اس کی اشاعت کا عرصہ اور مصنف کا نام تلاش کیا اور قدیم سرائیکی زبان کی املا ء ،تلفظ اور معانی کی وضاحت بھی کی۔سرائیکی ادبی بورڈ ملتان نے اس قلمی نسخے کا عکس حواشی اور تشریحات کے ساتھ شائع کردیا ہے۔
پروفیسر نسیم اخترکاکہناہے کہ ذبح نامہ کے مصنف کاتعلق سرائیکی بولنے والے ایسے علاقے سے ہے جس پر سندھی معاشرت اور زبان کے گہرے اثرات ہیں۔پروفیسر نسیم اختر لکھتی ہیں کہ ذبح نامہ اس دور کی تصنیف ہے جب معراج نامے ،نورنامے ایک شعری صنف کے طورپر رائج تھے۔ذبح نامہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ منظوم کیاگیاہے۔قلمی نسخے میں شاعرنے اپنا تخلص قبولا بیان کیا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سرائیکی شاعر محمد قبول خان چانڈیو کا کلام ہے جو حضرت میاں قبول اور حضرت قبول فقیر کے ناموں سے بھی جانے جاتے تھے۔ان کا زمانہ چھٹی صدی ہجری کے آخر کا ہے۔
قلمی نسخے کی بازیافت کے بارے میں نامور محقق ڈاکٹر طاہرتونسوی نے کہاکہ یہ بازیافت تحقیقی اعتبار سے انفرادی حیثیت کی حامل ہے۔پروفیسر شوکت مغل کاکہناہے کہ ذبح نامہ کے مطالعے سے قدیم سرائیکی زبان کااسلوب اور اس زمانے کی شاعری اور ثقافت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ایسے تحقیقی کام جاری رہنے چاہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…