جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

چھٹی صدی ہجری کا سرائیکی شعری مجموعہ کا قلمی نسخہ دریافت ، شائع کردیاگیا

datetime 14  اپریل‬‮  2015 |

ملتان(نیوز ڈیسک) معروف محقق اور زکریایونیورسٹی شعبہ سرائیکی کی اسسٹنٹ پروفیسر نسیم اختر نے چھٹی صدی ہجری کے سرائیکی شعری مجموعہ کا ایک قلمی نسخہ دریافت کیا ہے جسے’’ ذبح نامہ ‘‘کے نام سے شائع بھی کردیاگیا ہے۔یہ نسخہ نامور محقق اور دانشور ڈاکٹر مہر عبدالحق کی لائبریری کاحصہ تھا اور اس پر ان کی لائبریری کی مہر بھی ثبت ہے۔پروفیسر نسیم اختر نے ذبح نامہ کاعلمی ولسانی تجزیہ کیا ،اس کی اشاعت کا عرصہ اور مصنف کا نام تلاش کیا اور قدیم سرائیکی زبان کی املا ء ،تلفظ اور معانی کی وضاحت بھی کی۔سرائیکی ادبی بورڈ ملتان نے اس قلمی نسخے کا عکس حواشی اور تشریحات کے ساتھ شائع کردیا ہے۔
پروفیسر نسیم اخترکاکہناہے کہ ذبح نامہ کے مصنف کاتعلق سرائیکی بولنے والے ایسے علاقے سے ہے جس پر سندھی معاشرت اور زبان کے گہرے اثرات ہیں۔پروفیسر نسیم اختر لکھتی ہیں کہ ذبح نامہ اس دور کی تصنیف ہے جب معراج نامے ،نورنامے ایک شعری صنف کے طورپر رائج تھے۔ذبح نامہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ منظوم کیاگیاہے۔قلمی نسخے میں شاعرنے اپنا تخلص قبولا بیان کیا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سرائیکی شاعر محمد قبول خان چانڈیو کا کلام ہے جو حضرت میاں قبول اور حضرت قبول فقیر کے ناموں سے بھی جانے جاتے تھے۔ان کا زمانہ چھٹی صدی ہجری کے آخر کا ہے۔
قلمی نسخے کی بازیافت کے بارے میں نامور محقق ڈاکٹر طاہرتونسوی نے کہاکہ یہ بازیافت تحقیقی اعتبار سے انفرادی حیثیت کی حامل ہے۔پروفیسر شوکت مغل کاکہناہے کہ ذبح نامہ کے مطالعے سے قدیم سرائیکی زبان کااسلوب اور اس زمانے کی شاعری اور ثقافت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ایسے تحقیقی کام جاری رہنے چاہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…