پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

خاتون نے خود سے شادی کر لی

datetime 28  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک اطالوی خاتون نے ایک پرتعیش تقریب میں اپنے آپ سے خود ہی شادی کر لی ہے۔ تقریب میں روایتی سفید جوڑا، تین منزلہ کیک، برائڈ میڈز اور ستر مہمان شامل تھے۔چالیس سالہ فٹنس ٹرینر لائرہ میسی نے کہا ’میرا ماننا ہے کہ ہم سب کو پہلے خود سے پیار کرنا ہوگا۔ آپ سپنوں کے راجے کے بغیر بھی فری ٹیل مکمل کر سکتے ہیں۔‘اس شادی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔مگر یہ اس بڑھتے ہویے

رجحان کی علامت ہے کہ بہت سے لوگ اب خود سے شادی کرنے لگے ہیں۔ اس عمل کو ’سولو گیمی‘ کہا جا رہا ہے۔اس طرح کی تقاریب کے حمایتی کہتے ہیں کہ خود سے پیار کرنے اور خود کو پسند کرنے کا معاملہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ اس سماجی عزت حاصل کرنے کی کوشش ہے جو عموماً شادی شدہ جوڑوں کے لیے مختص ہوتی ہے۔کائرہ کا کہنا ہے کہ خود سے شادی کرنے کا خیال انھیں دو سال پہلے آیا جب ان کا ایک بارہ سال طویل ریلیشن شپ ختم ہوا۔ایک مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے عزیز و اقارب سے کہا تھا کہ اگر 40 سال کی عمر تک مجھے کوئی نہ ملا تو میں خود سے ہی شادی کر لوں گی۔‘’اگر کسی دن مجھے کوئی مرد ملتا ہے جس کے ساتھ میں اپنا مستقبل پلان کر سکتی ہوں تو بہت اچھی بات ہے مگر میری خوشی اس پر منحصر نہیں ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلی اطالوی خاتون ہیں جس نے خود سے شادی کی ہے۔ مئی میں ایک اطالوی مرد نولو ریگوئیرہ نے ناپولی میں خود سے شادی کی تھی۔
2014 میں ایک جاپانی ٹریول ایجنسی نے غیر شادی شدہ خواتین کے لیے عروسی تقریبات کا پیکج آفر کرنا شروع کیا تھا۔ یاد رہے کہ خود سے شادی کرنے کی اطلاعات 1993 سے سامنے آ رہی ہیں۔

اس موضوع کو کئی کتابوں اور ٹی وی شوز میں چھوا گیا ہے۔امریکہ میں ایک ویب سائٹ ’آئی میریڈ می‘ سیلف ویڈنگ کٹز فراہم کرتی ہے۔ کینیڈا میں ایک ایجنسی ’میری یوئر سلف وینکور‘ ایک سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ’سنگل ہی نیا نارمل ہے۔ اپنے غیر شادی شدہ ہونے کا جشن منائیں۔‘مگر اس رجحان کو ہر کوئی خوش عین نہیں سمجھتا اور کچھ لوگ اسے خود نمائی کہتے ہیں جبکہ دیگر اسے شادی پر بے جا اصرار قرار دیتے ہیں۔
لائرہ کو مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے ایسے پیغام بھی بھیجے ہیں کہ ’تم پاگل ہو۔‘ یا ’صد افسوس!‘گذشتہ ماہ خود سے شادی کرنے والی ایک برطانوی خاتون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں ’افسوس ناک فیمنسٹ‘ پکارتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…