جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

ڈرون حملے روکنے کے لیے حکومت کو جنگ کا حکم نہیں دیا جا سکتا: سپریم کورٹ

datetime 13  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان کی سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر ڈرون حملوں کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی کہ وہ حکومت کو ڈرون حملے روکنے کے لیے جنگ کرنے کے احکامات جاری نہیں کرسکتی۔عدالت عظمیٰ نے پیر کو یہ ریمارکس وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کو روکنے سے متعلق دائر درخواست پر دیے جسے سید محمد اقتدار حیدر نے دائر کیا تھا۔جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے جاری ہیں جن میں مشتبہ افراد کے ساتھ ساتھ بےگناہ افراد بھی مارے جار ہے ہیں۔ ا±نھوں نے کہا کہ بےگناہ افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے۔ ا±نھوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ سپریم کورٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اگر ان ڈرون حملوں کو نہ روکا گیا تو پھر کل ان حملوں کا دائرہ وسیع بھی ہوسکتا ہے اور یہ حملے پشاور اور لاہور میں بھی ہوسکتے ہیں۔ سید اقتدار حیدر کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے بھی لوگوں کے قتل عام کے مترادف ہے لہذا اس کو روکنے کے لیے عدالت حکومت کو احکامات جاری کرے۔بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ درخواست عدالتی دائرہ اختیار یعنی آئین کے آرٹیکل 184 کے زمرے میں نہیں آتی اور ایسے حالات میں کسی طور پر بھی ان حملوں کو روکنے کے لیے حکومت کو جنگ کرنے کے احکامات جاری نہیں کیے جاسکتے۔واضح رہے کہگذشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے خلاف امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے پاکستان میں کنٹری چیف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔اسلام آباد پولیس کی طرف سے ابھی تک عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کریں گے۔اس درخواست پر حکومت کا موقف ہے کہ ان امریکی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…