پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ڈرون حملے روکنے کے لیے حکومت کو جنگ کا حکم نہیں دیا جا سکتا: سپریم کورٹ

datetime 13  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان کی سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر ڈرون حملوں کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی کہ وہ حکومت کو ڈرون حملے روکنے کے لیے جنگ کرنے کے احکامات جاری نہیں کرسکتی۔عدالت عظمیٰ نے پیر کو یہ ریمارکس وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کو روکنے سے متعلق دائر درخواست پر دیے جسے سید محمد اقتدار حیدر نے دائر کیا تھا۔جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے جاری ہیں جن میں مشتبہ افراد کے ساتھ ساتھ بےگناہ افراد بھی مارے جار ہے ہیں۔ ا±نھوں نے کہا کہ بےگناہ افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے۔ ا±نھوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ سپریم کورٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اگر ان ڈرون حملوں کو نہ روکا گیا تو پھر کل ان حملوں کا دائرہ وسیع بھی ہوسکتا ہے اور یہ حملے پشاور اور لاہور میں بھی ہوسکتے ہیں۔ سید اقتدار حیدر کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے بھی لوگوں کے قتل عام کے مترادف ہے لہذا اس کو روکنے کے لیے عدالت حکومت کو احکامات جاری کرے۔بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ درخواست عدالتی دائرہ اختیار یعنی آئین کے آرٹیکل 184 کے زمرے میں نہیں آتی اور ایسے حالات میں کسی طور پر بھی ان حملوں کو روکنے کے لیے حکومت کو جنگ کرنے کے احکامات جاری نہیں کیے جاسکتے۔واضح رہے کہگذشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے خلاف امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے پاکستان میں کنٹری چیف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔اسلام آباد پولیس کی طرف سے ابھی تک عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کریں گے۔اس درخواست پر حکومت کا موقف ہے کہ ان امریکی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…