ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

اماراتی وزیر کے بیان کے بعد حکومتی صفوں میں کھلبلی

datetime 13  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ:فیصل ظہیر)پارلیمنٹ کی جانب سے واضح قرارداد آنے کے باوجود پاکستان کی حکومت ابھی تک سعودی اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے کے حوالے سے گومگوں کی کیفیت کا شکار ہے ۔گزشتہ رات سعودی وزیر کی ہنگامی طور پر اسلام آباد آمد کے بعد شہر اقتدار میں چہ میگوئیاں زبان زد عام ہیں کہ نوازشریف پارلیمنٹ کا بائی پاس کرینگے یا نہیں۔ ممکنہ طور وزیر اعظم نوازشریف اپنے سعودی اور اماراتی دوستوں کو قائل کرینگے کہ دوسروں کی جنگ میں شامل ہونے کا پاکستانی پہلے ہی خمیازہ ابھی تک بھگت رہے ہیں ۔50ہزار سے زیادہ شہریوں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیاں، 100ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانے اور موجود وقت میں دہشتگردوں کیخلاف جار ی آپریشن ضرب عضب کے باعث پاک فوج کومزید کسی معاملے میں نہیں الجھانا چاہتے۔لیکن اگر سعودی زمین پر کوئی آنچ آئی تو پاکستان کو سب سے آگے پائیگا۔ دوسری طرف سعودی عرب کے حکام بھی ممکنہ طور پرنوازشریف کو اپنے احسانات یاد دلاسکتے ہیں کہ جب 1999میں جنرل مشرف کی جانب سے ان کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو اس وقت یہی سعودی خاندان تھا جنہوں نے ان کی جان بخشی کروائی تھی اور تقریباً10 سال تک میاں برادران کو ایک مبینہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں پناہ دی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اماراتی وزیر کی جانب سے آنے والے بیان کے بعد سے حکومتی صفوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔اماراتی وزیر کی جانب سے واضح دھمکی کے 24گھنٹے تک حکومت کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا۔وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے آنے والے بیا ن کے بعد صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے ۔اس وقت لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں برسرروزگار ہیں جو اربوں کا زرمبادلہ پاکستان بھیج رہے ہیں ممکنہ طور پر ان کے ساتھ کوئی سختی کی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی حال ہی میں ہونے والا ایل این جی معاہدہ بھی خطرے میں پڑسکتا ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم ہاﺅس میں ایک اعلیٰ سطح کااجلاس بھی جاری ہے جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت شریک ہے جس میں بحران کے حوالے سے مشاورت جاری ہے اور شام تک کوئی اہم اور حتمی فیصلہ آسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…