پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی چوروں کا گروہ سعودی پولیس کے ہتھے چڑھ گیا تلاشی پر کیا چیزیں برآمد ہوئیں؟سنسنی خیز انکشافات

datetime 27  ستمبر‬‮  2017 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب میں ریاض صوبے کی پولیس نے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث پاکستانی باشندوں کا ایک گروہ پکڑ لینے کا انکشاف کیا ہے۔ گروہ کے افراد نے سکیورٹی اہل کار بن کر اپنے ہتھے چڑھنے والے ہر شخص کو مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ اس گروہ نے چوری کی 45 وارداتیں بھی کیں اور ان کارروائیوں سے حاصل اشیاء کو آپس میں تقسیم

کر لیا جن کی مالیت ایک لاکھ ریال سے زیادہ بنتی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ریاض صوبے کی پولیس کے میڈیا ترجمان نے بتایاکہ کچھ عرصہ قبل دارالحکومت کے علاقے منفوحہ کے پولیس اسٹیشن پر دو پاکستانی مقیمین نے اطلاع دی کہ انہیں سکیورٹی اہل کار کے روپ میں نامعلوم افراد نے حراست میں رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ اسلحے کے زور پر دونوں پاکستانیوں کے پاس موجود 10250 ریال اور 5000 ریال مالیت کے موبائل ریچارج کارڈ بھی چھین لیے۔ یہ کارڈ اْس شاپنگ اسٹور کے تھے جہاں مذکورہ دونوں پاکستانی کام کرتے ہیں۔ بعد ازاں دیگر متعدد غیر ملکی مقیمین کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی کہ انہیں بھی نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان اطلاعات میں بتائی گئی تفصیلات پہلی اطلاع کے طریقہ کار سے ملتی جلتی تھیں۔ منظم حکمت عملی مرتب کر کے گھات لگا کر ان نامعلوم افراد کو گرفتار کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ پانچ افراد پر مشتمل گروہ ہے اور تمام افراد پاکستانی شہریت رکھتے ہیں۔ ان افراد کے قبضے سے نشہ آور حشیش ، وائرلیس سیٹ ، 22 موبائل فونز ، تشدد کے لیے استعمال کیے جانے والے دو کوڑے ، 6861 سعودی ریال برآمد کر لیے گئے۔ تحقیقات کے دوران گروہ کے

تمام ارکان نے اپنی جانب منسوب مجرمانہ کارروائیوں کا اعتراف کر لیا اور بتایا کہ وہ سکیورٹی اہل کاروں کے رْوپ میں پلاسٹک کے جعلی ہتھیاروں کے ذریعے لوگوں کو قابو کرتے تھے۔گروہ کے ارکان نے چوری کی 45 وارداتوں کے ارتکاب کا بھی اعتراف کیا۔ گروہ کے ارکان کو پہلی اطلاع دینے والے متاثرین کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے فوری طور پر مجرموں کو پہچان لیا۔ تمام

افراد کو قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…