پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ایران کے سابق وزیر اعظم اور سپیکر کو پھانسی دینے کی تیاری

datetime 24  ستمبر‬‮  2017 |

تہرا ن(آن لائن)ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس شعبے کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی حکو مت دو سرکردہ اپوزیشن راہنماؤں مہدی کروبی اور میر حسین موسوی کے ٹرائل کے بعد انہیں پھانسی دینے یا کم سے کم عمر قید کی سزا دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس اہلکار جنرل حسین نجات نے ایک ایرانی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حکومت سبز انقلاب تحریک کے دو سرکردہ قائدین مہدی

کروبی اور میر حسین موسوی کے ٹرائل کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ انہیں سزائے موت یا کم سے کم عمر قید کی سزا سنائی جا سکے۔خیال رہے کہ میر حسین موسوی اور مہدی کروبی دونوں کئی سال سے اپنے گھروں پر نظر بند ہیں۔جنرل نجات نے کہا کہ اگر میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کا ٹرائل شروع ہوتا ہے تو ان کی نظر بندی ختم کر دی جائے گی۔ اس حوالے سے اعلیٰ قومی سلامتی کمیٹی میں بھی غور کیا گیا ہے۔مہدی کروبی ایرانی پارلیمنٹ کے تین بار اسپیکر رہ چکے ہیں جب کہ میر حسین موسوی ایران کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ دونوں 2011ء4 سے اپنے گھروں پر نظر بند ہیں۔ ایرانی حکومت سبز انقلاب تحریک چلانے کی پاداش میں انہیں مسلسل نظر بند رکھے ہوئے ہے۔ ان پر الزام ہے کہ سنہ 2009ء4 کے صدارتی انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف انہوں نے بڑے پیمانے پر ملک میں پرتشدد مظاہرے کیے تھے۔میر حسین موسوی اور مہدی کروبی نے الزام عائد کیا تھا کہ 2009ء4 کے صدارتی انتخابات میں سرکاری سرپرستی میں دھاندلی کرائی گئی۔ دھاندلی کے نتیجے میں محمود احمدی نڑاد ملک کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے۔ایرانی انٹیلی جنس عہدیدار نے کہا کہ حکومت نے نظر بند راہنماؤں کے سامنے رہائی کے لیے سنہ 2009ء4 کے مظاہروں کی معافی مانگنے کی شرط رکھی تھی

مگر انہوں نے معافی مانگے سے انکار کرتے ہوئے اپنے موقف پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔جنرل نجات کا کہنا ہے کہ اگر مہدی کروبی اور میر حسین موسوی سے جبری نظربندی اٹھائی جاتی ہے تو اس سے ان کے خلاف ٹرائل کی راہ ہموار ہوگی اور ان کا معاملہ عدالت کو منتقل کیا جائے گا۔ عدالت کی طرف سے انہیں سزائے موت یا کم سے کم عمر قید کی سزا کا قوی امکان موجود ہے۔واضح رہے کہ مہدی کروبی نے 25 اگست کو اپنی طویل بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔ انہوں نے گھر پر فوج اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی تعیناتی کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ حکومت نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے گھر سے فوج ہٹا دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…