پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ انتظامیہ کا ڈرون کارروائی اور کمانڈو چھاپوں پر لاگو پابندی اٹھانے پر غور

datetime 23  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی اخبار نے کہاہے کہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے روایتی میدان سے ہٹ کر ڈرون حملوں اور کمانڈو نوعیت کے چھاپوں سے متعلق اوباما دور میں عائد کردہ کلیدی قدغنوں کو اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات داخلی سوچ بچار سے مانوس اہل کاروں کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔ایسی تبدیلیاں لانے سے اْن ملکوں میں انسدادِ دہشت گردی کے

مشن کی راہ ہموار ہوگی، جہاں اسلامی شدت پسند سرگرم عمل ہیں لیکن امریکہ نے اس سے قبل اْنھیں ہلاک کرنے یا پکڑنے کا کام انجام نہیں دیا۔رپورٹ میں اہل کاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اِس ضمن میں صدر ٹرمپ کے چوٹی کے قومی سلامتی کے مشیروں نے دو عدد قوائد میں رعایت برتنے کی تجویز پیش کی ہے۔اول یہ کہ اہداف کو نشانہ بنانے سے متعلق فوج اور سی آئی اے کے مشن، جو اِس وقت عام طور پر اعلیٰ سطحی شدت پسندوں تک محدود تھے، جن سے امریکیوں کو مستقل اور کھلا خدشہ درپیش تھا اْسے وسعت دے کر اب پیدل جہادیوں تک بڑھا دیا جائے گا، جو خاص مہارت کے مالک نہیں یا جن کا کوئی قائدانہ کردار نہیں ہے۔دوئم، مجوزہ ڈرون کارروائیوں اور چھاپوں کے لیے اب پیشگی اعلیٰ سطحی اجازت نامہ درکار نہیں ہوگا۔تاہم، انتظامیہ کے اہل کاروں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ ایسی کارروائیوں کے لیے ایک کلیدی دشواری کو مدِ نظر رکھا جانا چاہیئے اور وہ یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی طور پر بھی شہری آبادی کو کوئی جانی نقصان نہ پہنچے۔اس تجویز پر انتظامیہ کے اہل کاروں نے کئی ماہ تک ضابطوں کی جانچ پڑتال پر غور و خوض کیا؛ اور رپورٹ کے مطابق، اب اس پر صدر ٹرمپ کے

دستخط ہونا باقی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایسی کارروائیاں اْن ملکوں میں بھی کی جا سکتی ہیں جہاں کئی برسوں سے امریکہ داعش کے شدت پسندوں کے خلاف حربی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں یمن، صومالیہ اور لیبیا شامل ہیں؛ اور اب اِن خطوں کے علاوہ اکا دکا افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے غیر حربی علاقوں تک بڑھایا جا سکے گا، جہاں دہشت گرد سرگرم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…