پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

’’پاکستان کی چین کے ساتھ تجارت‘‘ فائدہ ہونے کی بجائے کتنے ارب کا نقصان کیوں ہو رہا ہے؟

datetime 21  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔نجی ٹی وی چینل ’’سما‘‘ کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران چین کے ساتھ گزشتہ 5 سال کے تجارتی خسارے کی تفصیلات ایوان میں پیش کی گئیں، وفاقی وزیر تجارت محمد پرویز ملک نے تحریری جواب جمع کراتے ہوئے انکشاف کیا کہ 5 سال میں چین کیساتھ تجارتی خسارہ 3 گنا اضافے کے ساتھ

12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔وزیر تجارت نے مزید بتایا کہ 17-2016ء میں چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 12 ارب 67 کروڑ ڈالر ہوگیا جو گزشتہ سال 10 ارب 43 کروڑ ڈالر تھا، 15-2014 میں چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 8 ارب ڈالر اور 14-2013 میں 5 ارب 35 کروڑ ڈالر رہا جبکہ 13-2012ء میں یہ خسارہ 4 ارب ڈالر تھا۔حکام کے مطابق بھارت کے ساتھ تجارت میں بھی پاکستان مسلسل خسارے میں جارہا ہے، 4 سال میں بھارت سے 7 ارب 34 کروڑ ڈالر کا سامان منگوایا گیا اور اس کے ساتھ تجارتی خسارہ 5 ارب 94 کروڑ ڈالر رہا۔انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی اب گریڈیشن کی ترغیب دے رہی ہے۔ برانڈنگ و سرٹیفکیشن ڈویلپمنٹ سپورٹ دے رہی ہے۔ وفاقی وزیر تجارت محمد پرویز ملک نے تحریری جواب جمع کراتے ہوئے انکشاف کیا کہ 5 سال میں چین کیساتھ تجارتی خسارے میں 3 گنا اضافہ ہوگیا جسکے نتیجے میں خسارہ 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ وزیر تجارت پرویز ملک نے بتایا کہ 2016-17 میں چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 12 ارب 67 کروڑ ڈالر ہوگیا جو ایک سال پہلے 16-2015 میں 10 ارب 43 کروڑ ڈالر تھا۔ تحریری جواب میں بتایا گیا کہ 15-2014 میں چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 8 ارب ڈالر اور 14-2013 میں 5 ارب 35 کروڑ ڈالر رہا جبکہ 13-2012 میں یہ خسارہ 4 ارب ڈالر تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…