پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا نے روس پر متعدد ایٹمی بین البراعظمی میزائل داغ دئیے ،دھماکہ خیز خبر ملنے کے بعد روس نے کیا کیا؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 19  ستمبر‬‮  2017 |

ماسکو(این این آئی)دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچانے والا سابق سوویت یونین افسر چل بسا۔سابق سوویت افسر اسٹینسلے پیٹروف روس کے دارالحکومت ماسکو کے نواحی گاؤں میں 77 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ اسٹینسلے پیٹروف نے سوویت یونین اور امریکا کے درمیان ایٹمی جنگ نہیں ہونے دی تھی جس کے نتیجے میں دنیا بڑی تباہی سے بال بال بچ گئی تھی۔ اس کارنامے پر انہیں متعدد بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا

اور ان پر ایک دستاویزی فلم بھی بنی جس کا نام ’دا مین ہو سیوڈ دا ورلڈ‘‘ یعنی دنیا کو تباہی سے بچانے والا شخص ہے۔تمام تر شہرت اور عالمی ہیرو کا درجہ ملنے کے باوجود اسٹینسلے پیٹروف نے قدرے گمنامی اور الگ تھلگ زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔ ان کا انتقال 19 مئی کو ہوا تاہم دنیا کو اس بارے میں خبر اس وقت ملی جب ان کے ایک جرمن دوست نے اپنے بلاگ میں ان کی وفات کا تذکرہ کیا۔ستمبر 1983 میں امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ جاری تھی ۔ اسٹینسلے پیٹروف ماسکو کے جنوب میں ایک خفیہ کمان مرکز میں ڈیوٹی افسر تعینات تھے کہ ایک روز اچانک الارم بج اٹھا کہ امریکا نے روس پر متعدد ایٹمی بین البراعظمی میزائل داغ دئیے ہیں۔ اسٹینسلے کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے صرف چند منٹ تھے اور وہ موصول اطلاع کے مستند ہونے کے حوالے سے شش و پنج کا شکار تھے۔ اسٹینسلے نے اس الارم کو غلط قرار دے کر آگے اطلاع نہیں کی جس کے نتیجے میں سوویت یونین نے اپنے میزائل امریکا پر فائر نہیں کیے اور یوں دنیا بڑی تباہی سے بچ گئی۔ اگر اسٹینسلے اپنے کمانڈرز کو امریکی ایٹمی حملے کی خبر دے دیتے تو سوویت یونین لازما جواب میں اپنے ایٹمی میزائل امریکا پر داغ دیتا تاہم انہوں نے سسٹم میں ممکنہ خرابی کی اطلاع دی جس پر تحقیقات ہوئی جس میں اسٹینسلے کا فیصلہ درست قرار پایا۔ اس وقت ان کی عمر 44 سال تھی اور وہ لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…