اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

آنکھ کیوں پھڑکتی ہے؟ جانئے دلچسپ وجہ

datetime 19  ستمبر‬‮  2017 |

نیو یارک(نیوز ڈیسک)ہم اکثر اوقات بیشتر افراد کو آنکھ پھڑکنے کی شکایت کرتے ہوئے دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔آنکھ کے پھڑکنے سے متعلق اگرچہ مختلف لوگوں کی رائے مختلف ہوتی ہے۔تاہم ماہرین صحت کے مطابق آنکھ پھڑکنا کوئی خطرے والی بات نہیں ہے۔برآن یونیورسٹی کے الپرٹ میڈیکل سکول میں شعبہ عینیات کے اسسٹنٹ پروفیسر فلپ ریزوٹو ایم ڈی کا کہنا ہے کہ جب آنکھ پھڑکتی ہے تو عام طور پرکسی قسم کی درد یا شدیدتکلیف کا سبب نہیں بنتی،تاہم خصوصاً کام کے وقت پریشانی کا باعث بنتی ہے۔

انکا کہنا ہے کہ ا آنکھ کے پھڑکنے سے آنکھ کو کسی قسم ے نقصان کا کوئی ڈر نہیں ہوتا۔پروفیسر فلپ کا مزید کہنا ہے کہ آنکھ عام طور پر کشیدگی،تھکاوٹ ،پپوٹے یا کارنیا کی جلن ،کیفین اور شراب کی ذیادہ مقدار استعما ل کرنے کی وجہ سے پھڑکتی ہے۔انکا یہ بھی کہنا ہے کی آنکھ پھڑکنے کا عمل تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے کے بعد خود بخود ٹھیک ہو جا تا ہے۔ڈاکٹر ریزوٹو کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مریض ضرورت سے ذیادہ پریشانی میں مبتلا ہو تو وہ اس کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے ساتھ آنکھ کی صفائی کرتے ہیں اور کبھی کبھار آنکھ میں ڈالنے کے لئے قطرے وغیرہ بھی دے دیتے ہیں۔علاوہ ازیں انھیں چائے ،کافی اور شراب کم مقدار میں استعمال کرنے اور ذیادہ سونے کا مشورہ دیتے ہیں۔تاہم اگر کبھی مریض کی دونوں آنکھیں غیر معمولی طور ایک ساتھ پھڑکنے لگیں اور شدت کے باعث بند ہوجائیں تو فوراً ماہر امراض چشم سے رابطہ قائم کریں۔ماہرین امراض چشم کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایسی صورتحال سے 40سے60کی عمر کے افراد دوچار ہوتے ہیں ،تاہم یہ عام بیماری نہیں ہے۔انکا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تقریباً2000 افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے لیکن ابھی تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیںکیا جاسکا۔تاہم بوٹوکس انجیکشنز کے استعمال سے آنکھ کی پھڑپھڑاہٹ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…