پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

یمن بحران: عدن میں حوثی افواج کی پیش قدمی

datetime 6  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سعودی عرب کی قیادت میں مسلسل جاری فضائی حملوں کے باوجود حوثی عسکریت پسندوں کو یمن کے شہر عدن میں کچھ پیش قدمی میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔بر طا نو ی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق حوثی جنگجوو¿ں اور اتحادی فوج کے یونٹوں کے درمیان جاری تصادم یمن کے جنوبی شہر عدن میں شدید ہوگیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شدید فائرنگ اور گولہ باری کی آوازیں بندرگاہ کے قریب مرکزی شہر میں گونجتی رہیں۔حوثی افواج عدن شہر پر قبضہ کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، جو سعودی عرب کے حمایت یافتہ صدر عبدالربّ المنصور ہادی کی وفادار فوج کا آخری ٹھکانہ ہے، سعودی قیادت میں خلیجی فضائیہ کے گیارہ روز سے جاری فضائی حملوں کے باوجود حوثیوں نے پیش قدمی کی ہے۔فضا اور سمندر سے جاری اس جنگی مہم میں حوثیوں کے قافلوں اور میزائلوں اور ہتھیاروں کے ذخیروں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور کسی بھی ممکنہ بیرونی کمک کے راستوں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگرچہ حوثیوں نے سعودی الزامات کو مسترد کیا ہے کہ انہیں تہران کی جانب سے اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے۔یاد رہے کہ ہفتہ کو ریڈکراس نے عدن شہر میں 24 گھنٹے کے لیے جنگ بندی کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو شہریوں کی بہت بڑی تعداد ہلاک ہوجائے گی۔بی بی سی کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ریڈکراس کی ایک افسر میری کلیئر فیگلی نے کہا کہ شہر کے حالات انتہائی خوفناک ہیں۔انہوں نے کہا کہ گلیوں میں لاشوں کے ڈھیر لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس ہفتے یمن کی ہلالِ احمر کے تین رضاکار ہلاک ہوگئے تھے۔ لوگ کھانے کی چیزیں لینے باہر نہیں نکل سکتے۔ ہم جانتے ہیں کہ شہر میں پانی کی کمی ہے کیونکہ پانی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم سے جتنا ہو سکتا ہے، ہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. لیکن حالات بہت خراب ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حوثی افواج شہر میں آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور انہوں نے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے۔ کئی عمارتوں میں آگ بھی لگائی گئی ہے۔یمن کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر الخضر الاسار کے مطابق، عدن میں 26 مارچ سے اب تک 185 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور بارہ سو بیاسی افراد زخمی ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ اس تعداد میں باغی اور ہوائی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد شامل نہیں ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں 500 افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ صدر منصور ہادی کی حکومت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں جو ان کے مطابق بدعنوان ہے۔ باغیوں کو فوج کے اس دھڑے کی حمایت بھی حاصل ہے جو سابق صدر علی عبداللہ صالح کا وفادار ہے۔دوسری جانب سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس کا حریف ایران حوثی باغیوں کی مدد کر رہا ہے، لیکن ایران اس الزام کو مسترد کرتا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…