جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان تمباکوکواستعمال کرنے والے بڑے ممالک میں شامل

datetime 8  ستمبر‬‮  2017 |

خیرپور(آن لائن)پاکستان تمباکوکواستعمال کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے جہاں 22ملین سے زائد نوجوان اس کااستعمال کررہے ہیں،جبکہ سالانہ ایک لاکھ سے زائد افرادپھیپھڑوں کے کینسر،اسٹروک،دل اورسانس کی بیماری کے سبب ہلاک ہوجاتے ہیں۔ان خیالات کااظہار سینٹرروٹیرین شجاعت احمدصدیقی نے الفاروق اسکاؤٹس اوپن گروپ خیرپورکی جانب سے نوٹربیکومہم کے حوالے سے ایک تقریب سے خطاب کے موقع پرکیا۔انہوں نے کہا کہ تمباکونوشی کے ساتھ رہنے

والاایک گھنٹے میں جتناتمباکوسونگھتاہے وہ ایک سگریٹ پینے کے برابرہے ۔طبی تحقیق کے مطابق سگریٹ زندگی کے 11منٹ ضائع کرتی ہے ۔سگریٹ نوش کی زندگی کے اوسط 10سال کم ہوجاتے ہیں۔اس موقع پرماہرفزیشن ڈاکٹرظفر جتوئی نے کہاکہ پھیپھڑوں کی بیماری کی اہم وجہ تمباکونوشی ہے ،ٹی بی سینٹروں میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں میں 60فیصد سے زائد مریض تمباکونوشی کے متاثرہوتے ہیں،انہوں نے مزیدکہاکہ حکومتی پالیسی کے مطابق عام جگہ پبلک مقام ،دفاتر،ہوٹل ،بسوں،ٹرینوں شاپنگ سینٹرومال وغیرہ پرسگریٹ نوشی کیلئے ممنوعہ علاقہ قراردیئے جانے پرعمل درآمدکیاجائے ۔تقریب سے سینیئرصحافی محمداطہرصدیقی ،اسکاؤٹ لیڈرعبدالواحد پٹھان اوردیگرنے بھی خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…