اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام، برما کے آرمی چیف نے کیا شرمناک اعتراف کر لیا؟ تفصیلات جاری

datetime 7  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) برما کے آرمی چیف کا مسلمانوں کی نسل کشی پر کھل عام اعتراف، تفصیلات کے مطابق برما کے آرمی چیف نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو دوسری جنگ عظیم کا ادھورا مسئلہ قرار دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ برما کے علاقے روہنگیا میں آباد مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم اور ان کی نسل کشی پر برما کے آرمی چیف کا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے مسلمانوں کی نسل کشی کا کھل عام اعتراف کیا۔

برما کے آرمی چیف نے یہ شرمناک اور افسوسناک بیان دیتے ہوئے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام دوسری جنگ عظیم کا ادھورا مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس حوالے سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ برما کے آرمی چیف کے اس بیان کے بعد روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں تیزی آ سکتی ہے۔ دریں اثناء دنیا بھر سے روہنگیا مسلمانوں کے حق میں بیانات سامنے آ رہے ہیں، وہیں معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے میانمار میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ براۂ مہربانی برما کے مسلمانوں کو بچا لیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ ہم انسانوں کی نسل کشی کرنے والوں کو کیوں نہیں روک سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم دیکھ کر مجھے اپنے انسان ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے، ہمیں ظلم کے خلاف متحد ہوجانا چاہیے۔ ایک طرف ڈاکٹر ذاکر نائیک نے برما کے مسلمانوں ڈھائے جانے والے مظالم پر افسوس کا اظہار کیا تو دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ برما کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو کیس لڑنا چاہیے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے گھر جلانے پر پوری مسلمہ اُمہ نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اس کے علاوہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے حکومت سے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…