اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

’’دنیا کےتمام 196 ممالک کی سیر کرنے والی پہلی خاتون‘‘

datetime 7  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی) امریکا کی رہائشی کائسی ڈی پیکول 18 ماہ اور 26 دنوں میں دنیا کے 196 ملکوں کا تیزی سے سفر کرنیوالی پہلی شخصیت بن گئیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق 27 سالہ کائسی ڈی پیکول کا تعلق واشنگٹن سے ہے، اس نے جولائی 2015 میں سفر کا آغاز کیا،

اس دوران انہوں نے تائیوان، کوسوو اور فلسطین کے علاوہ 193 آزاد ملکوں کی مسافت کی۔ وہ صرف تیز ترین عالمی سفر کرنے والی ہی نہیں بلکہ 196 ملکوں کا سفر کرنے والی پہلی شخصیت بھی ہیں۔اگلے مرحلے میں وہ انٹارکٹیکا کی مہم جوئی کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ کائسی نے دس مقامات کی فہرست تیار کی ہے جہاں زندگی میں ایک بار ضرور جانا چاہیے، اس فہرست میں پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔ کائسی کے مطابق ایشیائی کلچر کے احساس اور کھانے پینے سے لطف اندوز ہونے کیلئے ایک بار پاکستان ضرور جانا چاہیے۔ کائسی ڈی پیکول خود کو عالمی مسافر، مہم جو، ماحولیات، خواتین کے حقوق اور امن کی کارکن قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے 2012 میں کارپوریٹ ادارے کی ملازمت کو خیر باد کہہ دیا، عالمی سفر کے اخراجات وہ اپنی بچت اور اسپانسرز کے ذریعے پورے کرتی ہیں، ان کے سفری اخراجات کا بجٹ 198000 ڈالر تھا۔اپنی مہم جوئی کے بارے میں کائسی نے بتایا کہ وہ سکول کے زمانے سے ہی دنیا کے ہر ملک کا سفر، وہاں کی ثقافت، رہن سہن اور مذہب کو سمجھنے کی خواہاں تھی۔ وہ خوش قسمت ہے کہ امریکا جیسے ملک میں پیدا ہوئی جہاں ہر ملک و ثقافت کے لوگ بستے ہیں، وہ مشرق وسطیٰ، دریائے امیزون کے کنارے بسنے والوں کے بارے میں بارے میں جاننا چاہتی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…