منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

عید الاضحی پر گوشت کھائیں مگر احتیاط سے

datetime 3  ستمبر‬‮  2017 |

کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے، اور عید الاضحیٰ کے موقع پر گوشت کی زیادتی اکثر لوگوں کی صحت کو متاثر کر دیتی ہے۔عید قربان کے موقع پر تقریباً ہر گھر میں ہی روزانہ مزے مزے کے گوشت کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں جن کی خوشبو اور لذت کے سامنے ہاتھ روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔غذا میں گوشت کا استعمال پروٹین،آئرن ،وٹامنز اور معدنی طاقت فراہم کرتا ہے لیکن اس کی زیادتی مختلف بیماریوں سے

دوچار کر سکتی ہے۔عموماً گھروں میں گوشت کو کئی کئی ہفتے یا مہینوں تک فریز کر دیا جاتا ہے لیکن ایسا کرنے سے اس میں جراثیم پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گوشت کو 3 ہفتوں سے زیادہ فریز نہیں کیا جانا چاہیے۔ماہرین کے مطابق خوراک میں روزانہ صحت کے لئے 90 گرام اور ہفتہ میں 500 گرام تک گوشت کا استعمال مفید ہوتا ہے تاہم اس سمیں زیادتی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق بہت زیادہ گوشت کا استعمال کولیسٹرول ، فیٹ، بلڈ پریشر اور پیٹ کے امراض میں اضافے کا باعث بنتا ہے جس سے انسانی قوت مدافعت اور صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 2015 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق وافر مقدار میں گوشت کے استعمال سے کینسر کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔اسی طرح امریکا کے نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے مطابق گوشت کو بہت زیادہ درجہ حرارت پر پکایا جاتا ہے جس سے ہیٹروسائیکلیک امائن (HCAs) اور پولیسائیک لک ایرومیٹک ہائیڈروکاربن کیمیکلز فراہم ہوتے ہیں جس سے انسانی صحت میں کینسر کا خدشہ بڑھ سکتے ہیں۔ایسے پکوان جن میں گوشت کے ساتھ تیل کا استعمال بھی بہت زیادہ کیا جاتا ہے وہ جسم میں چربی بڑھا دیتے ہیں جس کی وجہ سے ماہرین چہل قدمی کی ہدایت کرتے ہیں ساتھ ہی ایسے کھانوں کے ساتھ سبز چائے پینے کا مشورہ فراہم کرتے ہیں۔اکثر عیدالاضحی کے فورا بعد لوگوں میں قبض سمیت پیٹ کے امراض بھی بڑھ جاتے ہیں جس کی ایک وجہ گوشت کے استعمال میں زیادتی ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق رات میں سونے سے قبل اسپغول کی بھوسی کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اسپغول کھانے میں موجود چربی اور کولسٹرول کی ایک مقدار جذب کرکے فضلے میں خارج کردیتا ہے جس سے دل کی بیماریوں سے ایک حد تک بچاؤ ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…