بدھ‬‮ ، 22 جولائی‬‮ 2026 

عوامی تحریک کا لاہور میں دھرنا،عدالت نے اہم ترین فیصلہ سنادیا

datetime 16  اگست‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان عوامی تحریک نے لاہور ہائیکورٹ کو استنبول چوک میں مستقل دھرنے کی بجائے جلسہ کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ قائد طاہر القادری کی تقریر کے بعد جلسہ ختم کر دیں گے ،اگر مستقل دھرنا دینے ہوا تو جگہ کا مقام تبدیل کر لیا جائیگا، عدالت نے مشروط اجازت دیتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ کو

سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مامون رشید نے انجمن تاجران کے رہنما نعیم میر کی جانب سے پاکستان عوامی تحریک کا مال روڈ پر دھرنا روکنے کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالتی حکم کے تحت مال روڈ پر کوئی جلسہ، جلوس اور ریلی نہیں نکالی جاسکتی، ضلعی انتظامیہ نے بھی مال روڈ پر دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔ مال روڈ پر دھرنے سے دہشتگردی کا ناخوشگوار واقعہ ہو سکتا ہے اس لئے طاہر القادری کو مال روڈ پر دھرنا دینے سے روکا جائے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان نے حکومت پنجاب کی جانب سے جواب داخل کرایا کہ مال روڈ پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ واضح عدالتی احکامات موجود ہیں تو پھر مال روڈ پر دھرنا کیوں دیا جا رہا ہے؟۔عدالت نے مختصر سماعت کے بعد ہدایت دی تھی کہ تاجران، پاکستان عوامی تحریک اور ایڈووکیٹ جنرل معاملہ طے کریں، کسی نتیجے پر پہنچ گئے تو ٹھیک ورنہ عدالت خود فیصلہ کرے گی جس کے بعد سماعت مختصر وقت کے لئے ملتوی کی گئی۔اس دوران پاکستان عوامی تحریک اور انجمن تاجران کے درمیان مذاکرات ہوئے ۔درخواست کی دوبارہ سماعت ہوئی تو پاکستان عوامی تحریک نے عدالت کو یقین دلایا کہ عوامی تحریک کی جانب سے استنبول چوک میں مستقل دھرنے کی بجائے جلسہ کیا جائیگا اور پارٹی سربراہ طاہر القادری کی تقریر کے بعد ختم کردیا جائے گا۔لیکن اگر دھرنا دینے ہوا تو اس کا مقام تبدیل کر لیا جائے گا ۔فاضل عدالت نے فریقین کے درمیان معاملات طے پانے کے بعد درخواست نمٹا دی اور انتظامیہ ، پولیس کو ہدایت کی کہ جلسے کے شرکاء کو سکیورٹی فراہم کی جائے ۔اس سے قبل سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دھرنا شرکا کی جانب سے ضلعی حکومت کو دھرنے کے لیے دی جانے والی درخواست اوراس کی تیاریوں کی تصاویرعدالت میں پیش کردی۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے لیے رات درخواست دی گئی، دھرنا شرکا لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔عدالت نے عوامی تحریک کے وکیل سے استفسارکیا کہ یہ دھرنا کہیں پاکستان عوامی تحریک کے امیدوارکی الیکشن مہم تو نہیں، دھرنا کتنے وقت کے لیے دیا جا رہا ہے، جس پرپی اے ٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ سیاسی دھرنا نہیں، اس میں ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے ورثا شامل ہیں، دھرنا دو، تین گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، جس پر جسٹس مامون الرشید نے کہا کہ جناب آپ ایک وقت بتادیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان کا حل


آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…