ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کو غلطی کا احساس ہوگیا،اب وہ قسمیں اُٹھاکر کیا کہیں گے؟سعد رفیق نے حیرت انگیز دعویٰ کردیا

datetime 15  اگست‬‮  2017 |

لاہور(این این آئی)خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ نواز شریف عوامی رابطہ مہم جاری رکھیں گے تاہم اس کیلئے مشاورت کا عمل جاری ہے اور جلد حتمی پروگرام جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی تنظیم سازی کے متعلق بھی بات ہوئی ہے اور اس کے لئے کمیٹیاں بنائی جائیں گی ۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری ایک سمجھدار سیاستدان ہیں لیکن ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے ۔ بلاول کسی اور کی لائن پر چل رہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارا فون نہیں سنیں گے وہ بتائیں انہیں فون کیا کس نے ہے۔ عوامی مفاد میں ترامیم میں ساتھ نہیں دیں گے تو عوام انہیں چھوڑیں گے۔ زرداری صاحب بلاول کو خود لائن دیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو اب معلوم ہوا ہے کہ ان سے تاریخی غلطی ہو گئی ہے اور انہیں اس کا احساس ہونا شروع ہو گیا ہے ۔ وہ قسمیں اٹھا کر بھی کہیں گے کہ اس میں میرا کردار نہیں تو کوئی نہیں مانے گا کیونکہ مرکزی مہرہ آپ ہی تھے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاسی مخالفین کا خیال تھا کہ نواز شریف پر عدالتی نا اہلی کا ٹھپہ لگے گا اور وہ سر نیچا کر کے گھر چلے جائیں گے لیکن عدالتی فیصلے کے بعد ہماری عوامی سپورٹ میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے ۔ جو ہمارے خلاف بحری جہاز کا ’’ بھو بھو ‘‘ بنے ہوئے تھے اللہ ان کا بھی بھلا کرے ۔ لیکن جی ٹی روڈ کے سفر سے کچھ چیزیں بدلی ہیں اور مخالفین کو اس کا اندازہ ہو گیا ہے ۔ نواز شریف کا کارکن اب وزیر اعظم ہے او ر دوسرے کارکن وزراء ہیں ، اب بھی سب کچھ نواز شریف کے ہاتھ میں ہے بتائیں اپوزیشن کے ہاتھ میں کیا آیا ہے ۔نواز شریف کے ساتھی حکومت کر رہے ہیں اور وہ جلسے کر رہے ہیں ۔

میں عمران خان کی خدمت میں بڑے ادب اور شان میں گستاخی کئے بغیر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ وہ وقت آئے گا جب آپ ہمارے ساتھ آئیں گے اور ہمیں آپ کے پاس نہیں آنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل کے حوالے سے بڑے پر عزم ہیں کہ باقی جماعتوں کے تعاون سے انتخابی اصلاحات کی منظوری کر الیں گے اور یہ تاریخی دن ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی رابطہ مہم کے حوالے سے چیزوں کا جائزہ لیا جارہا ہے اور اس حوالے سے تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں تاہم مشاور ت کے عمل کے بعد جلد پروگرام جاری کر دیں گے۔

سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں 62اور63کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ بارہا کہہ چکے ہیں ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور عدلیہ کے احکامات پر من و عن عملدرآمد کیا گیا ہے ۔ نواز شریف عوامی رہنما اور ملک کے تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں ۔ عوام کا ان سے پیار اور عقیدت کا اظہار تھا کہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر ان کے استقبال کیلئے باہر آیا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے عدلیہ کو چیلنج نہیں کیا بلکہ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں ۔

نواز شریف نے کسی موقع پر کسی ادارے کا نام نہیں لیا لیکن سازش کا ضرور ذکر کیا ہے اور وقت آنے پر وہ خود بتائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں این اے 120کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے دوستوں نے رائے دی ہے جس پر تبادلہ خیال ہوا۔ آئندہ مزید اجلاس ہوں گے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق جاتی امراء میں حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب کی تیاریوں کے حوالے سے بھی اجلاس ہوا جس میں پرویز ملک ،رانا ثنااللہ خان ،میاں مجتبیٰشجاع الرحمن،خواجہ عمران نذیر،خواجہ احمد حسان، شائستہ پرویز ملک، خواجہ سلمان رفیق، میاں مرغوب سمیت دیگر بھی شامل تھے۔ اجلاس میں بیگم کلثوم نواز کی بھرپور انتخابی مہم اور کامیابی کیلئے تبادلہ خیال کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…