بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

چین کے ساتھ جنگ، بھارت کس سے امیدیں لگائے بیٹھاہے؟گلوبل ٹائمز کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 9  اگست‬‮  2017 |

بیجنگ(آئی این پی)بھارت اور چین مابین بڑھتی کشیدگی پر بین الاقوامی خاص طور پر چین کے میڈیا نے بھارتی موقف پر سوالات اٹھا دیئے، بھارت شاید چین کے خلاف لڑائی میں سپائڈر مین، بیٹ مین اور کیپٹن امریکہ سے مدد کی امید لگائے بیٹھا ہے ، بھارت چینی مصنوعات کی خریداری نہیں کرے گا تو اپنا نقصان کرے گا،چینی میڈیا نے انڈیا میں انگریزی اخباردی ٹائمز آف انڈیا میں شائع ایک مضمون کا حوالہ دیا ہے جس کی ہیڈ لائن ہے ناراضگی کے باوجود چین جنگ نہیں چاہتا۔

بھارت کو یقین،چینی اخبار گلوبل ٹائمز کی ویب سائٹ پر اس سے متعلق مضمون کی ہیڈلائن کے ساتھ لکھا ہے کہ ’چین جنگ نہیں چھیڑے گا یہ طے ہے، گلوبل ٹائمز اس پر لکھتا ہے کہ بھارت ایسا کونسا منتر پڑھ رہا ہے جو اسے یقین ہے،تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا میں بھارتی دفاعی اداروں کے موقف پر چین سمت دنیا بھر کے میڈیا پر یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ بھارت کو کون سی قوت بتا رہی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔چینی روزنامہ گلوبل ٹائمز اس میں اپنا حصہ بخوبی ڈالتے ہوئے لکھتا ہے کہ ہم حیران ہیں کہ انڈین دفاعی ادارے میڈیا میں دعوے کر رہے ہیں کہ چین کوئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔ دہلی خود بدترین حالات کے لیے تیار نہیں ہے لیکن بھارت کے عوام کو بہترین دنوں کے لیے تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔مضمون میں یہ بھی لکھا ہے کہ جنگ کے 55 برس بعد بھی بھارت نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ان لوگوں نے سبق نہیں سیکھا ہے۔چین کے سرکاری اخبار نے لکھا ہے کہ بھارت کو لگتا ہے لڑائی میں امریکہ ان کی مدد کرے گا اور چین پر نفسیاتی دباؤ ڈالے گا۔ شاید ان کو یو ایس گریٹ پاور گیم کے بارے میں کچھ نہیں معلوم نہیں ہے۔بھارت شاید شاید چین کے خلاف لڑائی میں سپائڈر مین، بیٹ مین اور کیپٹن امریکہ سے مدد کی امید لگائے بیٹھا ہے۔

چین میں پاکستانی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل کی اس خبر کو بھی کوریج دی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈیا نے آخرکار چین کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور چھہ اگست کو ڈوکلام سے فوج ہٹا لی۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ انڈیا نے ڈوکلام سے اپنی زیادہ تر فوج ہٹا لی اور سرحد پر صرف پچاس فوجی ہی تقعینات ہیں۔اس سے قبل چینی وزارت دفاع کے ترجمان نے بیان دیا تھا کہ دو اگست تک ڈوکلام میں انڈین فوجیوں کی تعداد 400 سے کم ہو کر 48 ہو گئی تھی۔ تاہم انڈین اہلکاروں نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔

بی جے پی کے اہلکاروں کی طرف سے انڈیا میں چینی اشیا کے بائیکاٹ کی اپیل کا چین میں خوب مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ چینی میڈیا میں بھی اس موضوع کو توجہ دی گئی ہے۔گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے ’کچھبھارتی ادارے انبھارتی فوجیوں کے لیے جھنڈے لہرانے اور جنگ کی نعرے لگانے سے بعض نہیں آ رہے ہیں جو غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کر گئے اور اشتعال انگیز بیان دے رہے ہیں۔ایک چینی نے لکھا ’چین میں بننے والا سامان نہیں خریدیں گے؟ کیا آپ کے پاس کوئی اور راستہ ہے؟ایک دوسرے چینی نے لکھا کہبھارت اور دیگر ہمسایہ ممالک کے تاجر چینی اشیا اس لیے خریدتے ہیں کیوں کہ یہاں کا سامان سستہ اور اچھے معیار کا ہے۔ آپ اپنا راستہ خود کاٹ رہے ہیں۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…