جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کیلئے مزید سخت اقدامات ،قیمت کو مستقل بنیادوں پر کنٹرول کیا جاسکے‘ پیاف

datetime 4  اگست‬‮  2017 |

لاہور (این این آئی) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف)نے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کے بعد اسٹیٹ بینک کے اقدامات سے ڈالر 1روپے60پیسے مزید سستا ہونے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک کے اقدام سے چار روز کے دوران اوپن مارکیٹ میں ڈالر ایک روپے60پیسے سستا ہوچکا ہے۔نئے وزیر اعظم کے پیغام سے بھی ملک میں غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا ہے اور روپیہ مستحکم ہوا ہے۔

قائم مقام چیئرمین پیاف تنویراحمد صوفی نے وائس چیئرمین پیاف خواجہ شاہزیب اکرم کے ہمراہ ایک پریس ریلز جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ سے بیرون ملک سے صنعتی مقاصد کیلئے منگوائے گئے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ سے صنعتی شعبہ پر بوجھ پڑتا ہے ۔اور اشیاء کی قیمتوں میںاضافہ سے ملکی برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے ۔روپے کے مقابلہ میں ڈالر کی قدر میں ایک روپے اضافہ سے ملک میں قرضوںکے بوجھ میں57ارب روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔خواجہ شاہزیب اکرم نے کہا کہ ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت ترین اقدامات کئے جائیں اور اسے 100روپے تک لایا جائے کیونکہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے حکومتی قرضوں میں بھی اربوں روپے کااضافہ ہوجاتا ہے ۔پیاف کے عہدیداران نے کہا کہ اداروں اور افراد کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں ڈالر کی قیمت بڑھنے نہ پائے۔ ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے باعث ادائیگیوں میں تواز ن قائم ہو اور تجارتی خسارہ میں کمی ہو۔ اس لیے حکومت ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کیلئے مزید سخت اقدامات کرے تاکہ ڈالر کی قیمت کو مستقل بنیادوں پر کنٹرول کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…