جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاناما کیس،عدالتی فیصلے کیخلاف مولانا فضل الرحمن کھل کر بول پڑے، سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 28  جولائی  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ پاناما کا معاملہ کرپشن کا نہیں ٗ سیاسی بحران پیدا کرنے کا ہے ٗ جس بنیاد پر وزیراعظم کو نااہل قرار دیا گیا اس پر ماہرین آئین حیران ہیں ٗکتنی سبکی ہے کہ ہماری عدالت کا فیصلہ کسی مثال کے طور پر پیش نہ کیاجاسکے ٗملک میں اگر کچھ ہوجاتا ہے تو کون ذمے دار ہوگا ٗایسے بحران ملک کیلئے مفید نہیں اور جذباتی قسم کی اچھل کود کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

جمعہ کو میڈیا گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاناما کیس ٗآف شور کمپنیاں اور لندن فلیٹ کی بنیاد پر درخواستیں دائر کی گئیں اور کئی مہینوں تک عدالت میں سماعت ہوتی رہی لیکن جس بنیاد پر فیصلے میں نااہل قرار دیا گیا اس پر ماہرین آئین حیران ہیں کیوں کہ اس بنیاد پر نااہلی کی توقع کسی کو نہیں تھی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جس بنیاد پر کیس داخل کیا گیا تھا اس پر کہا گیا کہ مزید تحقیق کی جائے گی اور چونکہ تنخواہ وصول نہیں کی گئی اس لیے نااہل قرار دیا گیا جبکہ کتنی سبکی ہے کہ ہماری عدالت کا فیصلہ کسی مثال کے طور پر پیش نہ کیاجاسکے۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہاکہ مخالفین مسلسل وزیراعظم کی نااہلی کے لئے تحریک چلارہے تھے اور اب سمجھ رہے ہیں انہوں نے کیس جیت لیا لیکن معاملہ ملک میں سیاسی بحران پیدا کرنے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے بھی کہا تھا کہ چور پکڑا جاتا ہے پتا ہوتا ہے کہ اس نے کہاں چوری کی لیکن میں نہیں سمجھتا کہ تاریخ اس فیصلے کو انصاف کے معیار پر پورا اترتا سمجھے گی ٗاب کیا پاناما کی آف شور کمپنیوں کا پیسا واپس آجائے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ فیصلے کے وقت عدالت کو سوچنا چاہیے تھا کہ اقتدار منتقلی کے وقت خلا کا کیا ہوگا ٗملک میں اگر کچھ ہوجاتا ہے تو کون ذمے دار ہوگا ٗایسے بحران ملک کیلئے مفید نہیں اور جذباتی قسم کی اچھل کود کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہاکہ پاکستان کی ترقی کا سفر بھارت کی نظروں میں کھٹک رہا ہے اور یہ سارا معاملہ کرپشن کا نہیں بلکہ سیاسی بحران پیدا کرنے کا تھا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں سیاسی بحران پیدا کر کے پاکستان کو عدم استحکام کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ سارا کچھ عدم استحکام اور پاکستان کی سلامتی کو مخدوش کرنے کی شروعات ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس فیصلے کے بعد پاناما کمپنیوں اور فلیٹس کا پیسہ پاکستان آ جائیگا؟

اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا مقصد صرف ایک وزیر اعظم کو ہٹانا تھا؟َ انہوں نے کہا کرپشن اور کمیشن پر کوئی فیصلہ نہیں آیا۔ نیب پر مدعی جماعت کو بھی اعتماد نہیں تھا لیکن آج اسی میں کیس ڈالے جا رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے بعد اس وقت ملک میں کوئی سربراہ نہیں ٗاس کا کون ذمہ دار ہے؟ سپریم کورٹ جب وزیر اعظم کو نااہل قرار دے رہی تھی تو اسے خلا کا بھی سوچنا چاہیے تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…