بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

’’نیم کے پتوں میں شفا کا خزانہ پوشیدہ ‘‘ اس کے ذریعے منہ کی بدبو کا علاج کیسے ممکن ہے ؟ 

datetime 7  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)طبی ماہرین نے نیم کی زبردست اہمیت بتاتے ہوئے اسے شفا سے بھرپور ایک دواخانہ قرار دیاہے جبکہ یہ منہ کی بدبو دور کرنے کے ساتھ ساتھ زخموں کو جراثیم سے پاک کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت بھی رکھتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق نیم کے پتوں کا پیسٹ زخم کے جراثیم اور انفیکشن فوری طور پر ختم کرتا ہے۔

اسی بنا پراسے زخم مندمل(بھرنے)کرنے والی جادوئی دوا کہتے ہیں۔ نیم کے تازہ پتوں کو پیس کر پانی ملائیں اور اس کا ایک پیسٹ بنا لیں اور اسے زخم پر لگائیں، یہ نہ صرف زخم کو جلدی بھرے گا بلکہ جادوئی انداز میں جراثیم کا خاتمہ بھی کر دے گا۔ماہرین نے بتایا کہ نیم کو جلد کا ٹونر کہا جاسکتا ہے، اس کی مدد سے پھوڑے پھنسیاں، مہاسے، سیاہ کیلیں اور دھبے دور کیے جاسکتے ہیں، اس کے پتوں سے نکالا گیا رس کئی طرح کے جلدی امراض کو دور کرسکتا ہے کیونکہ اس میں بیکٹیریا کے خلاف لڑنے والے اجزا پائے جاتے ہیں۔ نیم کے پتے جلد کو نمی فراہم کرنے اور فنگس سے بچانے کا بہترین ذریعہ بھی ہیں۔ماہرین کے مطابق نیم کے پھولوں کا رس وزن کم کرنے میں بہت مددگار ہوتا ہے۔ نیم کے پھولوں کا رس جسمانی استحالہ (میٹابولزم)کو تیز کرتا ہے اور چربی گھلاتا ہے، پھولوں کے رس کو لیموں یا شہد کے ساتھ ملا کر پینے سے فوری نتائج ملتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نیم بالوں کی جوں کا سخت دشمن ہے اور جراثیم پیدا نہیں ہونے دیتا۔ اس کے علاوہ سر کی خشکی دور کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ماہرین کے مطابق نیم کی مسواک منہ کے لیے بہت مفید ہے۔ ایک جانب تو یہ منہ میں موجود جراثیم اور بیکٹیریا کا خاتمہ کرتی ہے تو دوسری جانب لعاب میں الکلائن کی سطح کو برقرار رکھتی ہے۔ نیم دانتوں کو اجلا بناتا ہے اور مسوڑھوں کو انفیکشن سے بچاتا ہے۔ منہ کے زخم اور بدبو کو بھی ختم کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…