بدھ‬‮ ، 08 جولائی‬‮ 2026 

2050 تک دنیا کا کیا حال ہوگا؟عالمی ماہرین نے لرزہ خیز پیش گوئیاں کردیں

datetime 13  جولائی  2017 |

برلن(این این آئی)عالمی ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ 2050 تک دنیا کی آبادی 10 ارب کے آس پاس پہنچ جائے گی لیکن زرعی زمین سے اناج پیدا کرنے کا عمل روایتی ہونے کی وجہ سے اناج کی کمی کا خدشہ ہے جو بھوک پھیلنے کا سبب ہوگا۔جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق ماہرین نے کہاکہ آبادی میں افزائش کا عمل مسلسل جاری ہے لیکن زمین کا رقبہ اتنا ہی ہے اورشہروں کے پھیلاو کے باعث زیر کاشت رقبہ کم ہورہا ہے۔

اس وقت بھوک کے پھیلنے کی کیفیت یہ ہے کہ ہر9 میں سے ایک شخص خوراک سے محروم ہے۔ اناج میں کمی کی ایک وجہ زمین کی زرخیزی میں کمی بھی بتائی جاتی ہے۔اس صورتحال پر سماجی ماہرین کا کہنا تھا کہ آبادی میں اضافے کا عمل روکنا ناممکن ہے۔ 2030 میں دنیا کی آبادی آٹھ ارب ساٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہو جائے گی جبکہ 2050 میں یہ آبادی دس ارب کے قریب پہنچنے کا امکان ہے اور آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 83 برس بعد زمین پر11 ارب سے زائد نفوس بستے ہوں گے۔سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر پیدا ہونے والے اناج سے خوراک کم نہیں ہوئی ہے لیکن اصل مسئلہ اس کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ماہرین کے مطابق خوراک کھانے سے زیادہ ضائع کی جاتی ہے اور یہی بھوک میں افزائش کی بنیاد ہے۔ اس عمل میں ضروری ہے کہ خوراک کے ضائع ہونے کے سلسلے کو کسی طرح روکا جائے اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو بھوک کا نشان مٹانا آسان ہو گا۔زرعی سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے زمین بردگی کا عمل جاری ہے اور کئی زرعی علاقے اب کاشت کے قابل نہیں رہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ زیرزمین پانی کی کمیابی اور نمکیات میں اضافہ بھی ہے۔زرعی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مسلسل کاشت سے زمین کی زرخیزی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت زمین سے فی نفوس 4 ہزار کیلوریز پیدا کی جا رہی ہیں اور یہ ہر انسان کی ضرورت سے دو گنا ہے، اگر اقوامِ عالم کوئی استعمال کا بہتر نظام واضح کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو کم از کم موجودہ آبادی کے لیے خوراک کی فراہمی کوئی مسئلہ نہیں رہے گی۔‎



کالم



وراثت


بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…