جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

صرف وزیراعظم کی تبدیلی یا نئے انتخابات؟تحریک انصاف دراصل کیا چاہتی ہے؟حکمت عملی سامنے آگئی

datetime 13  جولائی  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف نے کہاہے کہ وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیتے تو انہیں انجام کا سامنا کرنا پڑیگا ٗ نواز شریف ٗ شہباز شریف اور اسحاق ڈار استعفیٰ دیں ٗ نیا وزیر اعظم نہیں نیا الیکشن چاہتے ہیں ۔جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نعیم الحق نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے دوران وزیر اعظم نواز شریف سے متعلق تشویش ناک باتیں سامنے آرہی ہیں، اگر نواز شریف استعفیٰ نہیں دیتے تو نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے اور انہیں برے انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ماڈل ٹاؤن واقعہ میں وزیراعظم نے اپنے بھائی کو بچانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے مظلوموں کو انصاف نہیں ملا ہم پاناما کے بعد ماڈل ٹاؤن اور ڈان لیکس کی رپورٹ منظر عام پر لائیں گے تاکہ مظلوموں کو انصاف ملے۔اس موقع پر بابر اعوان نے کہا کہ ملک میں لوٹ مار کا بازار گرم ہے ٗابھی تو صرف ایک پاناما کیس ہے جس میں کھربوں سامنے آگئے۔ تمام جماعتیں وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کررہی ہیں، جے آئی ٹی رپورٹ میں شہبازشریف کابھی وزیراعظم جیساہی ذکرہے ہم وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں وزیراعظم جتنا روئیں ہم انھیں سیاسی شہید نہیں ہونے دیں گے، پوری قوم وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کررہی ہے تاہم ہم نیا وزیر اعظم نہیں نئے الیکشن چاہتے ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ ظفر حجازی سرکاری اہلکاروں کودھمکیاں دے رہے ہیں، ان کے خلاف جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر مقدمہ ہوا ہے ، انہوں نے مزید ٹیمپرنگ کرنے کی بھی دھمکیاں دی ہیں، ایان علی کو گرفتار کرنے والی ایف آئی اے حجازی کو گرفتار کیوں نہ کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ قطر کی حکومت نے منی ٹریل کی نفی کی اوردبئی کے محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ نواز شریف نے ایک کمپنی کی سربراہی کی۔انہوں نے حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستانیو،ان کو ایک دھکا اور دو،مودی کے یار کو سریا کے سرکار کو ایک دھکا اور دو۔

بابر اعوان کا کہنا تھا اسلام آبادمیں دفعہ 144 کے نفادکا مقصد عوام کی 14 اگست کی آمد پر یہاں آنے سے روکنا ہے کیو نکہ حکومت کو معلوم ہے جو ریلی جلوس نکلے گا اس میں نواز شریف مخالف نعرے لگیں گے اس لئے پی ٹی آئی ہائیکورٹ میں اس کیخلاف رٹ دائر کریگی۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…