بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

احمد پور شرقیہ آئل ٹینکر حادثہ ‘ذمہ دار کون؟ اہم شخصیت نے بڑا عتراف کر لیا!!

datetime 11  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بہاولپور آئل ٹینکر حادثے میں آئی جی موٹرویز شوکت حیات نے موٹروے پولیس کی غفلت کا اعتراف کرلیا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں شرکا کو احمد پور شرقیہ میں پیش آنے والے آئل ٹینکر سانحے پر بریفنگ دی گئی۔آئی جی موٹرویز شوکت حیات نے حادثے میں موٹروے پولیس کی غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پولیس واقعے کی جگہ پر موجود ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر سکی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ واقعے کے بعد ایمبولینس کو اطلاع دی گئی نہ فائر بریگیڈ کو طلب کیا گیاجبکہ پولیس کو بھی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی بروقت علاقے کو سیل کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ کنٹرول روم میں موٹروے کے ساتھ 2 پولیس اہلکار بھی موجود ہوتے ہیں، لیکن حادثے کے دن دونوں پولیس اہلکار غیر حاضر تھے۔آئی جی موٹرویز نے کہا کہ موٹروے پولیس کی جانب سے تحقیقات کی جا رہی ہے جس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بہت سے آئل ٹینکر کرائے پر لئے جاتے ہیں لیکن کسی ٹینکر کو آئل اٹھانے اور فٹنس سرٹیفکیٹ دینے کا ذمہ دار این ایچ اے یا موٹروے نہیں بلکہ اوگرا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ڈرائیونگ لائسنس پر مزید سختی کی اور ڈرائیونگ اسکول کھولنے کا کہا، لیکن کہا گیا کہ اسکول کھولنا آپکا اختیار نہیں۔کمیٹی ارکان نے ٹینکر حادثات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئل ٹینکرز کیوں الٹتے ہیں، کیا ڈرائیورز نشے میں ہوتے ہیں۔کمیٹی رکن حامد الحق کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں آئل ٹینکرز چلتے پھرتے بم ہیں لہٰذا ڈرائیورز کے لائسنس اور آئل ٹینکرز کو فٹنس سرٹیفکیٹ دینا لازم قرار دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…