جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

شام میں کیمیائی حملے کس نے کئے؟، فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ سامنے آگئی ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 30  جون‬‮  2017 |

نیویارک(آئی این پی )کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ مشن او پی سی ڈبلیو نے کہا ہے کہ رواں برس اپریل میں شام میں ہونے والے حملے میں اعصاب شکن ممنوعہ گیس ‘سرین’ استعمال کی گئی تھی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ کا پینل اب یہ معلوم کرے گا کہ شامی حکومت اس کی ذمہ دار ہے یا نہیں۔صوبہ ادلب کے علاقے خان شیخون میں ہونے والے اس حملے کو تین سال کے دوران سب سے بڑا حملہ قرار دیا گیا تھا۔

اس حملے کے بعد امریکہ نے شامی اڈوں پر میزائل حملے کیے تھے۔فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ کو عینی شاہدین سے بیانات لینے کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ‘بڑی تعداد میں لوگ جن میں سے کچھ ہلاک ہو گئے تھے سرین کا شکار ہوئے۔’یہ رپورٹ او پی سی ڈبلیو ممبران کو بھجوائی گئی ہے تاہم اسے عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا۔اب او پی سی ڈبلیو اور یو این مشترکہ طور پر دیکھیں گے کہ ان حملوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔خیال رہے کہ شامی فوج کی جانب سے مبینہ طور پر سرین سے بھرے بموں کے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیرت میں شامی اڈوں پر کروز میزائل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔تاہم دوسری جانب شامی صدر بشارالاسد کا موقف تھا کہ یہ واقعہ من گھڑت ہے۔حملے کے بعد روس کا کہنا تھا کہ شام میں درجنوں افراد کو ہلاک کرنے والے مبینہ طور پر کیمیائی حملے کی ذمہ دار باغی فورسز ہیں۔روسی وزارتِ خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ شامی لڑاکا طیاروں نے ادلب صوبے میں خان شیخون نامی قصبے کو نشانہ بنایا ہے تاہم اس فضائی کارروائی میں زہریلے مواد سے بھری بارودی سرنگوں کے ایک ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…