جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

جے آئی ٹی کی تیسری رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ،ادارے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہے ،عدم تعاون کی صورت میں نتائج کون بھگتے گا؟سپریم کورٹ نے بھی سخت وارننگ جاری کر دی

datetime 22  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)پاناما عملدرآمد کیس میں جے آئی ٹی نے اپنی تیسری پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرا دی۔ جمعرات کو پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع پر جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے اپنی تیسری کارکردگی رپورٹ پیش کی، جے آئی ٹی کی سیل رپورٹ 2 کتابوں پر مشتمل ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق جے آئی ٹی نے

وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیراعظم کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے بیانات کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔پانا ما پیپرز کی تحقیقات سے متعلق جے آئی ٹی نے اپنی تیسری پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔ سربمہررپورٹ ججز کے حوالے کی گئی ہے۔پیش رفت رپورٹ کا جائز ہ لینے کے بعدمشاورت کی گئی جس کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا ایس ای سی پی اور ایف بی آٰر نے مکمل ریکارڈدیاہے۔سربراہ جے آئی ٹی واجد ضیا نے بنچ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایس ای سی پی نے ریکارڈ دیاتھا جبکہ ایف بی آر نے متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا ہے۔جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب جب ریکارڈمانگاگیاتوکیوں نہیں دیا گیا ؟ جسٹس عظمت نے کہا کہ کیاریکارڈ موجود بھی ہے یا نہیں ؟کیا پوچھا گیا ہے۔واجد ضیا نے جواب دیا کہ جی ریکارڈ مانگا تھا اس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کیا آپ نے مخصوص ریکارڈ مانگا تھا۔اٹارنی جنرل سے سوال کیا گیا کہ کیاایس ای سی پی کیخلاف ریکارڈٹیمپرنگ کی انکوائری کی گئی تھی۔اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ جی اس سے متعلق انکوائری کی جارہی ہے ٗ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ یہ قابل افسوس بات ہے۔جسٹس عظمت نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ سب ادارے تعاون کریں جبکہ ایک سے زیادہ بارخط لکھا گیا تھا ٗ

کیا ریکارڈ گْم یا چوری ہوگیاہے؟بعد ازاں عدالت نے تمام کارروائی سننے کے بعد حکم دیا کہ کیس کی حتمی اور مکمل رپورٹ 10 جولائی کو پیش کی جائے اور جے آئی ٹی کے سربراہ ایف بی آر سے درکار ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کریں ، اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے ، ایسے ہی بلاوجہ کسی کی ٹانگیں کھینچنے سے کام نہیں چلے گا ۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…