جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کا وہ ملک جہاں انسانوں کی جان بچانے کیلئے مفت ہیلی کاپٹرایمبولنس سروس استعمال کی جاتی ہے

datetime 18  جون‬‮  2017 |

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک)جرمنی میں عام آدمی کے لئے ہیلی کاپٹر ایمبولینس استعمال کیا جاتا ہے۔ جرمن میڈیا کے مطابق جرمنی میں جب کوئی بیمار ہوجائے تو ایمرجنسی نمبر پر کال کرنے پر اسے ہیلی کاپٹر ایمبولینس سے فوری طبی امداد دی جاتی ہے۔ہیلی کاپٹر ایمبولینس جرمنی کی بہت اچھی سروس ہے۔ بعض او قات سڑکوں پر زیادہ رش ھونے کی وجہ سے مریض کو ہسپتال ٹرانسفر کرنے میں اچھا خاصا وقت بھی لگ جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو ہسپتال لے جانے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

اور مریض بروقت ٹریٹمنٹ نا ہونے کی وجہ سے جاں کی بازی ہار جاتا ہے۔یہ ای ایم ایس ہیلی کاپٹر سروس اے ڈی اے سی نامی غیرمنافع بخش آٹو موبائل کلب‘ ڈی آرایف نامی ادارہ اور وزارت داخلہ کے اشتراک سے چلائی جارہی ہے اورلگ بھگ پورے جرمنی میں ہر جگہ پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سروس کے زیادہ تر ہیلی کاپٹر دن میں استعمال ہوتے ہیں تاہم رات میں بھی سروس آپریشنل ہوتی ہے۔ہیلی ایمبولنس میں میڈیکل کا عملہ ہوتا ہے جو کہ عموماً دو افراد پر مشتمل ہوتا ہے اور پائلٹ کے علاوہ بعض مخصوص نوعیت کے ہیلی کاپٹرز میں ایک اضافی فلائٹ ٹیکنیشن بھی ہوتا ہے۔اے ڈی اے سی کے پاس 35 ہیلی کاپٹرز ہیں جبکہ ڈی آر ایف 30 ہیلی کاپٹرز کے ساتھ سروس فراہم کرتی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے زیرانتظام 12 ریسکیو ہیلی کاپٹرز ہیں جنہیں پائلٹ پولیس مہیا کرتی ہے۔کچھ پرائیویٹ اور ملٹری ہیلی کاپٹرز اس کے علاوہ ہیں جو ضرورت پڑنے پر اس آپریشن میں مدد گار شامل ہوتے ہیں‘ اے ڈی اے سی کےپاس بیرونِ ملک منتقلی کے لیے خصوصی طیارہ بھی ہے جسے ایمرجنسی کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…