پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

مشروبات مغرب کو ایوان صدر کے کچن کا باقاعدہ حصہ بنادیا گیا

datetime 16  جون‬‮  2017 |

تحریر:جاوید چودھری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یحییٰ خان کے دور میں ایوانِ صدر کے کچن کے اخراجات یکدم بڑھ گئے کیونکہ یہ وہ دور تھا جب ’’مشروباتِ مغرب‘‘ کو کچن کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا تھا۔ ڈائننگ ہال میں ایک خوبصورت بار بنایا گیا تھا جس میں صبح، دوپہر، شام اور رات کے مختلف قسم کے مشروبات کی درجنوں بوتلیں رکھوائی گئیں۔ جن کے بارے میں سختی سے آرڈر تھا کہ یہ ختم نہیں ہونی چاہئیں،

اگر کسی بوتل میں گلاس بھر مشروب ہے تو اسے فوراً ہٹا کر اس کی جگہ بھری ہوئی بوتل رکھ دی جاتی۔ ان مشروبات کو ’’سرو‘‘ کرنے کے لیے پڑھے لکھے سمارٹ باورچی اور خوبصورت بیرے رکھے گئے۔ جو سارا دن پیرس کے نازک گلاسوں میں معزز مہمانوں کی تواضع کرتے رہتے۔ اس دور میں پہلی مرتبہ ایوان صدر کے مینو میں چائنیز، یورپین اور دیسی کھانے شامل کیے گئے جو بغیر کسی پیشگی نوٹس کے فوراً پیش کیے جا سکتے تھے۔ اسی دور میں کچن کے سٹاف میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔ کچن کے انتظامات چلانے کے لیے ایک چھوٹی سی باڈی بنائی گئی جو تین افراد پر مشتمل تھی۔ تمام مالی اور انتظامی معاملات کی رکھوالی ان کی ذمہ داری تھی۔ ایک ایک پرچیزنگ کمیٹی تھی جو مارکیٹ سے مختلف اشیاء خریدتی تھی جبکہ بیروں کی وردیوں، چھٹیوں اور ڈیوٹیوں کا حساب رکھنے کے لیے الگ سٹاف رکھا تھا۔
اس مضمون کا محرک بہت دلچسپ تھا، 1996ء میں اخبارات میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی اس خبر میں انکشاف ہوا۔ ’’وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس کا چیف شیف معطل کر دیا۔‘‘ تفصیلات میں لکھا تھا۔ ’’وزیراعظم نے اپنے لیے سویٹ ڈش تیار کرائی، یہ ڈش جب وزیراعظم تک پہنچی تو انہیں ایمرجنسی میں ایک میٹنگ میں جانا پڑ گیا، انہوں نے جاتے جاتے سویٹ ڈش فریج میں رکھوا دی۔

رات گئے وزیراعظم واپس آئیں تو انہوں نے سویٹ ڈش لانے کا حکم دیا، وزیراعظم ہاؤس کا عملہ کچن میں پہنچا تو یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا، وزیراعظم کی سویٹ ڈش فریج سے چوری ہو چکی ہے۔ اس ’’چوری‘‘ کی اطلاع جب وزیراعظم تک پہنچی تو انہوں نے چیف شیف کو معطل کر دیا۔ یہ خبر بہت دلچسپ تھی، میں نے جونہی یہ خبر پڑھی، میں نے سوچا پاکستان کے سابق اور موجودہ حکمرانوں کے دستر خوان ایک دلچسپ موضوع ہے اگر اس پر تحقیق کی جائے اور اس تحقیق کی بنیاد پر ایک طویل فیچر لکھا جائے تو قارئین اس میں دلچسپی لیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…