بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

پولیو: جنوبی پنجاب کو انتہائی حساس قرار دیے جانے کا امکان

datetime 27  مارچ‬‮  2015 |

اسلام ا باد( نیوز ڈیسک) سندھ اور بلوچستان کے بعد اب صوبہ پنجاب میں بھی پولیو وائرس کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کے باعث جنوبی پنجاب کے اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیئے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔پنجاب کے وزیراعلیٰ کے صحت سے متعلق مشیر خواجہ سلمان رفیق نے تجویز پیش کی ہے کہ پولیو وائرس سے متاثرہ اضلاع کی 2015ء کے لیے نئی فہرست تیار کی جائے جس میں رحیم یار خان، ڈی جی خان اور راجن پور کے علاقوں کو شامل کیا جائے۔اسلام اباد میں ایمرجنسی اوپریشن سینٹر (ای پی ائی) کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے جاری پھیلاؤ کے باعث شمالی سندھ اور بلوچستان سے متصل جنوبی پنجاب کے اضلاع کو انتہائی حساس قرار دے دیا جائے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پولیو وائرس کے انتہائی متاثرہ علاقوں سے دیگر کی جانب لوگوں نے ہجرت کی ہے جبکہ ان علاقوں میں پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو کم اہمیت دی گئی۔صحت کے مشیر نے پنجاب میں (ا ئی پی وی) انجکشن کے ذریعے پولیو ویکسن کو متعارف کروانے کی تجویز دیتے ہوئے رحیم یار خان کے ماحولیاتی نمانوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے بھی سفارش پیش کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ائی پی وی انجکشن کے ذریعے متاثرہ فرد کو لگائی جانے والی ویکسین ہے جو بچوں میں بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے مدد دیتی ہے۔اگر بچے کو ائی وی پی کے ذریعے سے ویکسن فراہم کی گئی ہو تو اس بات کا کم امکان ہوتا ہے کہ بیماری سے بچاوں کے لیے اس میں قوت مدافعت میں کمی اسکے۔تاہم جو بچے پولیو وائرس سے متاثر ہو جاتے ہیں تو وہ ویکسینشن کے باوجود پولیو کے وائرس کو منتقل کرنے کا باعث بنتے ہیں۔دوسری جانب ا ئی پی وی ویکسینشن اورل پولیو ویکسن (او پی وی) سے مہنگی ہیں۔

سندھ

حفاظتی ٹیکوں پر توسیعی پروگرام کے سندھ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مظہر خمیسانی نے اجلاس کے دوران بتایا کہ گزشتہ دنوں کراچی میں انجکشن کے ذریعے ویکسین لگانے کی ایک بڑی مہم انجام دی جارہی تھی۔
انھوں نے اجلاس کے شرکاء4 کو سندھ میں پولیو پروگرام کے بارے میں ا?گاہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے کراچی کے پولیو سے انتہائی حساس قرار دیئے جانے والے علاقوں میں انسداد پولیو مہم کے رضا کاروں کی حفاظت کے لئے 700 سیکیورٹی اہلکار فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
تاہم بیشتر وعدوں کے باوجود سیکیورٹی حکام پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لئے اہلکار فراہم نہیں کرسکے۔
بلوچستان
بلوچستان کے محکمہ صحت کے سیکرٹری ڈاکٹر نور بلوچ نے انسداد پولیو مہم کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہو ئے کہا کہ انسداد پولیو مہم کی تعداد سے زیادہ اس مہم کے معیار پر توجہ دینی چاہئے۔
فاٹا
وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ای پی ا?ئی کے نائب ڈائریکٹر ڈاکٹر صاحبزادہ خالد نے تجویز پیش کی کہ فاٹا میں پولیو مہم کے لیے مخصوص مقام تجویز کیے جائیں اور پولیو وائرس کی تشخیص کے لیے ایک آزاد نگران مقرر کیا جانا چاہیے۔اجلاس کی صدارت سینٹر عائشہ رضا فاروق نے کی اورانہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس ماہ کے ا خر تک صوبوں کی تجاویز کو پلان میں شامل کرلیا جائے گا۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…