جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

قطر کے کچھ لوگوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا گیا ،قطری اخبار کا الزام

datetime 12  جون‬‮  2017 |

دوحہ(آن لائن)قطر کے ایک اخبار نے سعودی عرب پر الزام لگایا ہے کہ قطر کے کچھ لوگوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے،قطر کے چند شہریوں کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے مبینہ طور پر منع کرنے کی خبر پر عربی میڈیا میں بحث جاری ہے۔دوحہ کے اخبارالشرق نے قطر کے قومی انسانی حقوق کمیشن کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے۔خیال رہے کہ مسجد الحرام مسلمانوں کا مقدس ترین مذہبی مقام ہے اور حج کی ادائیگی وہاں جائے بغیر نہیں ہو سکتی۔

اخبار کے مطابق قطر کے انسانی حقوق کمیشن کو شکایات ملی ہیں کہ قطر کے کچھ شہریوں کو مسجد الحرام میں جانے سے روکا گیا ہے۔انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ علی بن شیخ المری نے اخبار سے کہا کہ یہ انسانی حقوق کے تحت حاصل مذہبی حقوق کی سخت خلاف ورزی ہے۔جبکہ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ قطر کے لوگ شاہ سلمان کے دل میں رہتے ہیں۔وزارت خارجہ نے اپنے ٹویٹ لکھا کہ قطر کے لوگ سعودی عرب کے اپنے بھائیوں کی توسیع ہیں۔ شاہ سلمان قطر اور سعودی خاندانوں کے انسانی حقوق کے مسائل کو مشترکہ خاندان کے مسئلے کے طور پر سنتے ہیں۔سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایسی شکایات کے ازالے کے لیے ہاٹ لائن نمبر بھی جاری کیا ہے۔قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، یمن اور مصر نے قطر پر انتہا پسندی کو فروغ دینے کے الزام لگانے کے بعد اس سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ان ممالک نے قطر پر سفری پابندیاں بھی لگائی ہیں۔ قطر نے تمام طرح کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان پابندیوں کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔ادھر ایران نے اتوار کو قطر کے لیے پھل، سبزیوں والے کئی طیارہ بھیجے ہیں۔فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مدد انسانی ہمدردی کے تحت کی گئی ہے یا پھر ان دونوں ممالک کے درمیان کوئی تجارتی سمجھوتہ ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…