جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

قذافی کا بیٹا سیف الاسلام رہائی کے بعد کہاں پہنچ گیا؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 11  جون‬‮  2017 |

زنتان(مانیٹرنگ ڈیسک)لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو چھ سال بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد وہ زنتان شہر سے مشرقی لیبیا کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔عرب خبررساں ادارے کے مطابق سیف الاسلام زنتان شہر میں قائم جیل سے رہائی کے بعد مشرقی لیبیا روانہ ہوگئے ہیں۔ذرائع کاکہنا ہے کہ حکومت کی اجازت اور عدالت کے حکم پر سیف الاسلام کو رہا کیا گیا ہے۔

اب انہیں البیضاء شہر میں اپنے اقارب کے ساتھ رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ توقع ہے کہ سیف الاسلام قذافی جلد ہی مناسب موقع دیکھتے ہوئے اپنے حامیوں سے خطاب بھی کریں گے۔البیضا شہر کے قبائلی عمائدین نے رہائی کے بعد سیف الاسلام کی میزبانی کی پیش کش کی تھی۔اس سے قبل قبائل کی نمائندہ حکمائ کونسل نے معمر قذافی کی بیوہ اور سیف الاسلام کی والدہ صفیہ فرکاش کو بھی میزبانی کی پیش کش کی تھی تاہم انہوں نے یہ پیش کش مسترد کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے ہمراہ بیرون ملک رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔خیال رہے کہ سیف الاسلام کو 2011ء میں زنتان جیل میں ڈالا گیا تھا۔ حال ہی میں پارلیمنٹ کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے بعد سیف الاسلام کو بھی رہا کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیف اسلام قذافی کی رہائی سے ملک میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔واضح رہے کہ کہ سیف اسلام قذافی گذشتہ چھ سالوں سے زنتان نامی دیہی علاقے میں ابو بکر الصدیق بٹالین نامی ایک ملیشیا فورس کی قید میں تھے۔ابو بکر الصدیق بٹالین کا کہنا ہے کہ سیف الاسلام قذافی کو جمعے کو رہا کر دیا گیا تھا تاہم انھیں عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ابو بکر الصدیق بٹالین کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ اقدام ملک میں ’عبوری حکومت‘ کی درخواست پر اٹھایا ہے۔ملک کے مشرقی علاقے میں موجود اس حکومت نے پہلے ہی سیف الاسلام کو معافی دے دی تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…