جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

قذافی کا بیٹا سیف الاسلام رہائی کے بعد کہاں پہنچ گیا؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 11  جون‬‮  2017 |

زنتان(مانیٹرنگ ڈیسک)لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو چھ سال بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد وہ زنتان شہر سے مشرقی لیبیا کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔عرب خبررساں ادارے کے مطابق سیف الاسلام زنتان شہر میں قائم جیل سے رہائی کے بعد مشرقی لیبیا روانہ ہوگئے ہیں۔ذرائع کاکہنا ہے کہ حکومت کی اجازت اور عدالت کے حکم پر سیف الاسلام کو رہا کیا گیا ہے۔

اب انہیں البیضاء شہر میں اپنے اقارب کے ساتھ رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ توقع ہے کہ سیف الاسلام قذافی جلد ہی مناسب موقع دیکھتے ہوئے اپنے حامیوں سے خطاب بھی کریں گے۔البیضا شہر کے قبائلی عمائدین نے رہائی کے بعد سیف الاسلام کی میزبانی کی پیش کش کی تھی۔اس سے قبل قبائل کی نمائندہ حکمائ کونسل نے معمر قذافی کی بیوہ اور سیف الاسلام کی والدہ صفیہ فرکاش کو بھی میزبانی کی پیش کش کی تھی تاہم انہوں نے یہ پیش کش مسترد کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے ہمراہ بیرون ملک رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔خیال رہے کہ سیف الاسلام کو 2011ء میں زنتان جیل میں ڈالا گیا تھا۔ حال ہی میں پارلیمنٹ کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے بعد سیف الاسلام کو بھی رہا کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیف اسلام قذافی کی رہائی سے ملک میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔واضح رہے کہ کہ سیف اسلام قذافی گذشتہ چھ سالوں سے زنتان نامی دیہی علاقے میں ابو بکر الصدیق بٹالین نامی ایک ملیشیا فورس کی قید میں تھے۔ابو بکر الصدیق بٹالین کا کہنا ہے کہ سیف الاسلام قذافی کو جمعے کو رہا کر دیا گیا تھا تاہم انھیں عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ابو بکر الصدیق بٹالین کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ اقدام ملک میں ’عبوری حکومت‘ کی درخواست پر اٹھایا ہے۔ملک کے مشرقی علاقے میں موجود اس حکومت نے پہلے ہی سیف الاسلام کو معافی دے دی تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…