پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

سخاوت

datetime 10  جون‬‮  2017 |

مہاتمہ گاندھی چاکرا سانگھ کے لیے شہر سے شہر، گاؤں سے گاؤں کا سفر کر رہے تھے۔ لوگ کروڑوں کی تعداد میں چاکرا سانگھ کے لیے امداد دینے میں مصروف تھے۔ ہر طرف پولیس اہلکار ان کی حفاظت کے لیے تائینات تھے۔ ایسے میں ایک بہت ضعیف بڑھیا ہجوم میں دھکے کھاتی ہوئی سٹیج کی طرف بڑھ رہی تھی۔ وہ اتنی کمزور تھی کہ اس کے کندھے ڈھلکے ہوئے تھے اور اس کی کمر جھکی ہوئی تھی۔

لوگ اس کو حقارت سے دیکھ رہے تھے کہ اس کا بھلا گاندھی کی صحبت میں کیا کام۔وہ کسی طرح دکھے کھاتے کھاتے سٹیج پر پہنچی اور ادب سے اپنے لیڈر کے پاؤں چھوئے جیسا کہ ہندوؤں میں رواج ہے۔اس نے اپنی ساڑھی کے بلوں کے بیچ ایک تانبے کا سکہ دبایا ہوا تھا۔اسے نکالا اور کپکپاتے ہاتھوں سے گاندھی کو پیش کر دیا۔گاندھی پرستاروں کے نعروں میں گم تھا مگر اس نے وہ سکہ لیا اور تہہ دل سے اس بڑھیا کا شکریہ ادا کیا۔ جب سارے چیک، کیش اور امدادی اشیاء ایک جگہ اکٹھے کیے جا رہے تھے تو جواہر لال نہرو نے گاندھی کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ وہ سکہ دے دیں تو اس کو بھی امداد میں شامل کر لیا جائے۔ گاندھی نے وہ تانبے کا سکہ دینے سے انکار کر دیا اور بولا کہ یہ بہت قیمتی ہے یہ میں اپنے پاس رکھوں گا۔ نہرو بولا کہ کروڑوں روپے مالیت کے چیک میں ادھر ڈبے میں ڈال رہا ہوں ۔لوگوں نے اتنی بڑی بڑی چیزیں قربان کی ہیں اور اس کے مقابلے میں اس کھوٹے سکے کی بھلا کیا اہمیت؟ آپ مجھے یہ دینے سے کترا رہے ہیں۔اس نے قہقہ لگایا۔مہاتمہ گاندھی بولا کہ سب نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق مجھے نظرانے پیش کیے ہیں ۔سب نے اپنی دولت میں سے تھوڑا تھوڑا حصہ دیا ہے لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس بڑھیا نے اپنی پوری دولت ہمیں پیش کر دی ہے۔ اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور جو کچھ اس سے بن پڑا اس نے کیا۔ میرے لیے اس کا جذبہ قابل احترام ہے اور اسی لیے یہ سکہ ہمیشہ میرے پاس ہی رہے گا۔ اس نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ میرے لیے یہ معمولی تانبے کا سکہ کروڑوں روپے کی مالیت سے کہیں زیادہ انمول اور قیمتی ہے۔ حاصل سبق انسان کی قربانی بڑی یا چھوٹی ہو سکتی ہے مگر لیڈر وہ ہوتے ہیں جو جذبے کو اہمیت دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…