جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سبزار بھٹ شہید اپنی والدہ سے بار بار کیا دعاکرنے کاکہتے تھے؟ بیٹے کی شہادت کے بعدوالدہ کی حالت کیسی ہے؟قابل تحسین انکشافات

datetime 30  مئی‬‮  2017 |

ترال( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی درندوں نے حزب المجاہدین کے کمانڈر سبزار بھٹ سمیت13کشمیریوں کو بھارتی فوج سے 3روز قبل فرضی جھڑپ میں شہید کر دیا گیا۔ ترال میں شہید کمانڈر کے گھر تعزیت کیلئے آنیوالوں کا ہجوم لگا ہے مگر سبزار بھٹ کی والدہ جانا بیگم بہت حوصلے اور صبر کے ساتھ بیٹھی نظر آئیں انکی آنکھوں میں نہ کوئی آنسو تھا نہ چہرے پر غم کا کوئی تاثر، انہوں نے بتایا کہ میں اپنے بیٹے کی شہادت پر ہرگز نہیں روئی،

میرے بیٹے نے مجھے کہا تھا کہ اسکی شہادت پر نہ روئوں، میں اپنے شہید بیٹے سے کیا وعدہ نبھا رہی ہوں۔ انہوں نے کشمیر کے اخبار کو بتایا کہ جب سمو گائوں میں بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے سبزار اور انکے ساتھیوں کا محاصرہ کر رکھا تھا میں اپنے بیٹے اور دیگر مجاہدین کی حفاظت کیلئے اللہ سے دعائیں مانگ رہی تھی اس وقت میری آنکھوں میں آنسو تھے مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ میرا بیٹا بھارتی فوج کے گھیرائو میں آ گیا ہے مگر جب مساجد سے ترانے گونجنے لگے تو مجھے یقین آ گیا انہوں نے بتایا کہ سبزار احمد بھٹ نے جب حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی تو جب بھی میرے پاس آتا مجھ سے کہتا کہ میری شہادت کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ اسکی شہادت قبول کرے۔دوسری طرف سبزار احمد بھٹ کی شہادت پر حریت رہنما ؤں کی اپیل پر مقبوضہ وادی میں آج بھی مکمل ہڑتال ہے۔قابض انتظامیہ نے وادی میں کرفیو نافذ کررکھا ہے، کل سبزار احمد کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ترال تک مارچ کیا جائے گا۔بھارتی قابض انتظامیہ نے سری نگر سمیت کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کررکھا ہے، جگہ جگہ خاردار باڑیں لگا کر سڑکیں بند کی گئی ہیں۔وادی میں بھارتی فورسز کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔حریت رہنماؤں کی اپیل پر کی جانے والے ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔کٹھ پتلی انتظامیہ نے وادی میں ہفتے کے روز سے انٹر نیٹ سروس اور موبائل فون سروس بھی معطل کر رکھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…