جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کیا واقعی عرب ممالک کے حکمران سعودی مفتی اعظم کی اولاد ہیں؟

datetime 29  مئی‬‮  2017 |

ریاض (این این آئی)مملکت سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کے خاندان کی جانب سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک خلیجی ریاست کے امیر (حکمراں) کی جانب سے کیا جانے والا یہ دعوی کہ وہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی اولاد میں سے ہیں، قطعا بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان بن علی بن محمد کا تعلق بنی تمیم سے ہے۔

شیخ کے صرف4 بیٹوں کی اولاد ہوئی جن کے ذریعے آل الشیخ خاندان کی نسل پھیلی۔شیخ کی آل اولاد صرف ان چار بیٹوں ان کے بیٹوں اور پوتوں پر مشتمل ہے۔ان چار بیٹوں کی نسل سے ہٹ کر مملکت یا اس کے بیرون کوئی بھی شخص اگر شیخ کے خاندان سے تعلق رکھنے کا دعوی کرتا ہے تو وہ دعوی جھوٹا ہوگا۔ کوئی بھی خلیجی حکمران سعودی مفتی اعظم کی اولاد نہیں ہے،جس طرح ایک خلیجی ریاست کے امیر نے اپنے ملک میں شیخ محمد بن عبدالوہاب کے نام پر مسجد بنائی ہے اور دعوی کیا ہے کہ شیخ اْن کے آبائو و اجداد میں سے ہیں۔آل الشیخ خاندان نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ مسجد کا نام تبدیل کیا جائے کیوں کہ اس کے آئمہ اور خطیب شیخ محمد بن عبدالوہاب کے نظریات اور طریقہ کار سے کوئی نسبت نہیں رکھتے۔بیان پر دستخط کرنے والوں میں سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ ، اسلامی امور کے وزیر شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ اور مجلسِ شوری کے اسپیکر شیخ عبداللہ بن محمد آل الشیخ کے علاوہ آل الشیخ خاندان سے تعلق رکھنے والے 200 سے زیادہ علماء اور شرعی عدالتوں کے قاضیان شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…