جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

کم عمر بچوں کے لیے جوس بہتر یا دودھ؟

datetime 27  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر کی مائیں عام طور پر اپنے شیر خوار اور کم عمر بچوں کو دودھ ہی دیتی ہیں، چاہے وہ ٹیٹرا پیک یا ملک پاؤڈر ہی کیوں نہ ہو، مگر کچھ مائیں اپنے بچوں کی بہتر نشو و نما کی غرض سے انہیں پھل اور جوس سمیت دیگر چیزیں بھی دیتی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں کے دودھ کے ساتھ تازہ پھلوں اور گندم سے تیار خوراک بچے کی نشو و نما کے لیے بہتر ہوتی ہے، مگر ماہرین صحت کے مطابق بچوں کے لیے فروٹ جوس ہرگز بہتر نہیں ہے۔ماہرین صحت کے مطابق تازہ پھلوں کے مقابلے فروٹ جوس میں چینی، کیلوریز اور دیگر چیزوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جو بچوں کے دانتوں، پیٹ اور بہتر صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتیں۔فروٹ سے تیار شدہ جوس وقتی طور پر فائدہ پہنچاتے ہیں، کیوں کہ ان میں فائبر، دودھ اور فریش فروٹ جیسے اجزاء نہیں ہوتے، اور ان میں کیلوریز، شگر اور دیگر مصنوعی چیزوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ماہرین نے کم عمر بچوں کو کتنی مقدار میں کتنا جوس دینا چاہئیے، اس حوالے سے ایک گائیڈ لائن بھی تیار کی ہے، جسے آئندہ ماہ جون میں سائنس جنرلز کے ذریعے شائع کیا جائے گا۔گائیڈ لائن میں والدین کو تجویز دی گئی ہے کہ 6 ماہ تک بچوں کو فروٹ جوس بلکل نہیں دینا چاہئیے، جب کہ ایک سے 3 سال کی عمر کے بچوں کو یومیہ صرف 110 گرام تک جوس دینا چاہئیے۔اسی طرح 7 سال سے بڑے بچوں کو یومیہ 220 گرام تک فروٹ جوس دینا چاہئیے، جب کہ ماہرین نے خصوصی طور پر والدین کو ہدایت کی ہے کہ 18 سال تک بچے کو کبھی بھی جوس کا مکمل ڈبہ نہیں دینا چاہئیے۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…