بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے ججز نے لفافوں میں بندپاناما جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ پڑھ کر کیا کہا؟حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی 

datetime 22  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی ) پانامہ کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سپریم کورٹ میں اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کردی،جسٹس اعجاز افضل خان نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ 60روز میں کام مکمل کرنا ہے ،کسی صورت اضافی وقت نہیں دیں گے ،قانون سے ہٹ کر کاروائی نہیں کریں گے،ہم قانون بیچنے کے لئے نہیں بیٹھے ،کاروائی میں کوئی رکاوٹ ڈالے تو فوری آگاہ کیا جائے ۔

پیر کو سپریم کورٹ میں پنامہ فیصلے پر عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی ،سماعت کے دوران جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی ۔ججز نے رپورٹ کا جائزہ لیا،جسٹس اعجاز افضل خان نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء سے مکالمے میں کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے 60روز میں کام مکمل کرنا ہے۔کسی صورت اضافی وقت نہیں دیں گے ۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ رپورٹ پر عدم اعتماد نہیں کررہے ہیں ۔ تحریک انصاف نے عدالت سے رپورٹ کی نقل فراہم کرنے کی استدعا کی ۔فواد چوہدری نے کہا کہ قوم جاننا چاہتی ہے تحقیقات میں کیا ہورہا ہے ۔عدالت نے فواد چودہدی کی استدعا مسترد کردی ۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ قانون ہمیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بہت سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بہت سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے ۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ قانون سے ہٹ کرکاروائی نہیں کریں گے ۔ہم قانون بیچنے کے لیے نہیں بیٹھے کاروائی میں کوئی رکاوٹ ڈالے تو فوری آگاہ کیا جائے ،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ دوسرے فریق کو فائدہ پہنچانے والے کام نہ کریں ،رخنہ ڈالنے والے سے عدالت نمٹ لے گی عدالت نے کیس کی سماعت 2ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…