جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

’’کل بھوشن کو پھانسی سے کس صورت بچایا جا سکتا ہے؟ ‘’ ‎

datetime 20  مئی‬‮  2017 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں ماہرین قانون نے متنبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے کلبھوشن یادیوکی پھانسی روکنے کے حکم پر زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں اور یادیو کی رہائی کے لیے پاکستانی عدالت سے رجوع کرنا ہی واحد راستہ ہے۔بھارتی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے قانون دانوں کا کہناتھا کہ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے ۔ اس فیصلے کے بعد مستقبل میں اگر بھارتی سکیورٹی فورسز کسی

پاکستانی شہری کو دہشت گردی کیک الزام میں گرفتار کرتی ہیں تو پاکستان بھی قونصلر رسائی کے لیے آئی سی جے سے رجوع کرسکتا ہے اوردہشت گردی کے مشتبہ مجرموں پر ویانا کنونشن کا اطلاق نہ ہونے کی پاکستان کی دلیل کوبین الاقوامی عدالت انصاف نے جس طرح مسترد کیا ہے اس کے بھارت پر بھی دور رس اثرات پڑسکتے ہیں۔اسٹریٹیجک امور کے ماہر پروین سوامی کا اس حوالے سے کہناتھارت نے اخلاقی فتح حاصل کی ہے لیکن سیاست میں اخلاقی فتح پر کوئی انعام نہیں ملتا اور اخلاقی شکست پر کسی طرح کی شرمندگی نہیں ہوتی ۔انڈین سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء کے سابق نائب صدر منی متھو گاندھی کا کہنا تھاکہ آئی سی جے کی یہ بات درست ہے کہ پاکستان اس کے فیصلے پر عمل کرنے کا پابند ہے لیکن اگر پاکستان نے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا توبھارت کے پاس کیا چارا کار رہ جائے گا۔ فی الحال ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جواس طرح کے احکامات پرعمل درآمد کراسکے۔ میرے خیال میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے انصاف کو نافذ کرانا حقیقت پسندانہ متبادل نہیں ہے کیوں کہ اس ادارہ کی نوعیت سیاسی ہے جہاں فیصلے کیس کی میرٹ پر نہیں بلکہ ووٹنگ کی بنیاد پرکیے جاتے ہیں۔بھارتی قانونی ماہرین کا کہناتھا کہ اقوام متحدہ چارٹر کے مطابق آئی سی جے کوئی اپیل عدالت نہیں ہے جہاں ممالک یا افراد مجرمانہ معاملات میں

اپنی شکایتیں لے کر جائیں،یہاں قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ چارٹر کے مطابق آئی سی جے کوئی اپیل عدالت نہیں ہے جہاں ممالک یا افراد مجرمانہ معاملات میں اپنی شکایتیں لے کر جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل دباؤ پاکستان کے سپریم کورٹ یا اس اپیل کورٹ پر ڈالنے کی ضرورت ہے جسے فوجی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے کا اختیار ہے۔ بھارت کو بھی اسی پر اپنی توجہ مرکوز کرنی

چاہیے کیوں کہ آئی سی جے میں اگر حتمی فتح ہوجاتی ہے تب بھی اس کے نتیجے میں یادیو تک صرف قونصلر رسائی ہی مل سکے گی لیکن اگر پاکستان کی اپیل کورٹ میں شکست ہوجاتی ہے تواس کامطلب ہے یادیو کے لیے تمام راستے بند ہوجائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…