بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی عدالت میں کلبھوشن کامعاملہ ،حکومت نے کون سی سنگین غلطی کی؟ ،معروف قانون دان نےکیاخاص مشورہ دیاتھاکہ نواز حکومت نے توجہ تک نہ دی

datetime 18  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معاملہ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ حکومت پاکستان اس معاملے میں یا تو بھارت کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ،عالمی عدالتوں میں انٹرنیشنل لابی اور بین الاقوامی رشتوں کو استعمال کیا جاتا ہے اورحکومت پاکستان کےبین الاقوامی تعلقات اور انٹرنیشنل لابی پہلے بھی خراب تھی اور اب بالکل بھی نہیں ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر عالمی عدالت کو سماعت کا اختیار نہیں دیا

لیکن ہم نےبے وقوفانہ طریقے سے کلبھوشن پر عالمی عدالت انصاف کو سماعت کی اجازت دے دی، ماہر قانون فروغ نسیم کی نجی ٹی وی سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عالمی عدالت انصاف میں پذیرائی نہیں ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے 29مارچ کو ایک اعلامیہ جاری کیا جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ تمام معاملہ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ حکومت پاکستان اس معاملے میں یا تو بھارت کے ساتھ ملی ہوئی ہے یا انہیں یقین ہے کہ عالمی عدالت انـصاف میں وہ بھارتی موقف کا مقابلہ کر لینگے۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان جانتی ہے کہ ہمارے بین الاقوامی تعلقات اور ہماری انٹرنیشنل لابی پہلے بھی خراب تھی اور اب بالکل بھی نہیں ہے تو ایسے حالات میں کیا آپ یہ کیس جیت لیں گے ؟ میں نے پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں ہاتھ جوڑ جوڑکر کہا کہ اس معاملے سے فوری طور پر باہر نکلیں۔ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پربھارت نے عالمی عدالت کو سماعت کا اختیار نہیں دیا لیکن ہم نے نہایت بیوقوفانہ طریقے سے کلبھوشن کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف کو سماعت کی اجازت دے دی۔لیکن ہم نے نہایت بیوقوفانہ طریقے سے کلبھوشن کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف کو سماعت کی اجازت دے دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…