منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

14سوسال بعد سائنسدانوں نے بڑی بیماری کاحل ’’نماز‘‘میں تلاش کرلیا،اگرآپ بھی اس بیماری میں مبتلاہیں توآج ہی نمازباقاعدگی سے اداکرناشروع کردیں

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نماز کی اہمیت سے سب واقف ہو نگے نماز جہاں برے کاموں سے روکتی ہے وہاں نماز کی ادائیگی سے بہت سی تکلیفیں دور ہو جاتی ہے۔اب مغربی ماہرین نے بھی نماز کے فوائد اور کو مان لیا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق کے بعد یہبات سامنے آئی ہے کہ نماز کی ادائیگی نہ صرف کمر اور جوڑوں کے درد کو روکتی ہے بلکہ اسے دور کرنے میں معاون بھی ثابت ہوتی ہے۔تفصیلات کے مطابق کمر کے نچلے حصے میں ہونے والے درد کودور بھگانے کے لیے سجدے کی حالت بہت موزوں ہے

کیونکہ اس گھٹنے اور ہتھیلیاں زمین پر موجود ہوتی ہیں اور یہ زاویہ کمر درد کو دور بھگانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ماہرین نے کمر درد کی وجوہات جاننے کے لئے مشاہدہ کیا جس میں انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کمر کے مریضوں کو جھکتے وقت تکلیف اور دباؤ کا سامنا ہوتا ہے اور جب رکوع اور سجدے کی حالت کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئے اور کمر درد کا علاج دریافت کرلیا، ماہرین نے فیصلہ کیا کہ نماز ادائیگی کے دوران انسانی جسم میں جو حرکت پیدا ہوتی ہے وہ کمر درد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بہت مؤثر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…