جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مشال خان کا قتل،پولیس کا کیا کردارتھا؟اداکاروں کے پیچھے اصل ہدایتکارمجرم کون ہیں؟عدالت میں حیرت انگیزانکشافات

datetime 17  مئی‬‮  2017 |

اسلام آبا(مانیٹرنگ ڈیسک) مشال خان قتل ازخود نوٹس کی سماعت بدھ کے روزسپریم کورٹ میں ہوئی ۔اس موقع پرخیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل نے جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے مقدمے کی سماعت کے دوران مقتول مشال خان کے والد کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی معاشرے میں ایسے واقعات کی ہرگزاجازت نہیں ہے اورعدالت نے اسی وجہ سے اس معاملے کاازخود نوٹس لیاہے ۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مشال خان کے قتل کامعاملہ سارادن چلتارہالیکن اس روزپولیس سوئی ہوئی تھی ،اس معاملے میں یونیورسٹی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کوبھی نظراندازنہیں کیاجاسکتاہے ۔اس موقع پر مشال خان کے والد نے کہاکہ کہ ان کے بیٹے کو قتل کرنے والے اداکاروں کو تو گرفتار کیا گیا، ہدایتکار اب بھی قانون کے شکنجے سے باہر ہیں۔ عدالت کو جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 57 میں سے 53 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں جن میں سے مرکزی ملزم عمران نے اعتراف جرم کر لیا جبکہ 4 ملزمان مفرور ہیں۔ جس پرچیف جسٹس نے مقدمے کاچالان تین ہفتے میں پیش کرنے کاحکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مشال خان کے والد کے خدشات کا نوٹس لے لیا ہے اورصوبائی وزیر مشتاق غنی نے کہاہے کہ سیکیورٹی معاملات سے متعلق ڈی سی کو احکامات جاری کردیئےگئے ہیں جومشال خان کے خاندان سے رابطہ کریں گے اور جو سیکیورٹی وہ چاہتے ہیں انہیں دیں گے۔۔اس سے قبل مشال خان کے والد نے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاتھاکہ میری بیٹیاں بھی پڑھنے جاتی ہیں، انہوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں ناخوشگوار واقعے سے متعلق خدشات ظاہر کردیئے۔جس پرخیبرپختونخواحکومت نے سیکورٹی فراہم کرنے کافیصلہ کیاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…