منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

الرجی سے نجات حاصل کرنے کیلئے آسان ترین گھریلو ٹوٹکے

datetime 15  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بہت سے لوگ الرجی کو جلد کا ایک عام سا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مسئلے کے متعددسبب ہو سکتے ہیں جیسے کہ قوت مدافعت کی خرابی ، ادویات کا استعمال اور انفیکشنزکا ہونا۔ جلد کی الرجی مختلف اشکال میں ہوسکتی ہےجیسے کہ خارش، خشک جلداور جلد کا پھٹناوغیرہ۔

اگرچہ اس سب کیلئے ادویہ اور مرہم موجود ہیں لیکن جلد کے ان مسائل سے نجات پانے کیلئے ہم گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کر سکتے ہیں۔5 ایسے ٹوٹکے جو جلد کی الرجی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔لیموں: اینیستھیٹک اور انسداد سوزش خصوصیات کا حامل لیموں آپ کو خارش سے راحت بخشتا ہے۔ ایک لیموں لیجئے اور اس کا رس کھجلی والی جگہ پر ملیے اور خشک ہونے دیجئے۔تلسی: تلسی یوجینول سے مالا مال ہوتا ہے، جو جلد کی الرجیز کا علاج کرتا ہے۔ جلدی مسائل میں تلسی کے پانی سے جلد کو دھونا مفید ہو سکتا ہے۔پودینہ: پودینے میں مینتھول ہوتا ہے جو اینستھیٹک اور انسداد سوزش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ کھجلی اور خراش میں پودینہ لگانے سے آپ کو راحت ملے گی۔پھلوں کے چھلکے: پھلوں کے چھلکے بھی جلد کی الرجی میں بہت مو¿ثر ہوتے ہیں۔ کیلے یا تربوز کے چھلکے کو خارش سے متاثرہ جگہ پر مَلنے سے راحت ملتی ہے۔ایلو ویرا: ایلو ویرا انسداد سوزش خصوصیات کے سبب جلد کی الرجی کے علاج کیلئے بہترین ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…