جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

گرین کارڈ کی چاہ میں بیرون ممالک شادیاں کرنے والے پاکستانی ہوشیار

datetime 12  مئی‬‮  2017 |

برسلز(این این آئی) مشرقی یورپ کے جرائم پیشہ گروہ ملک میں سمگل کر کے لائی جانے والی خواتین کا جنسی استحصال اور ان کو جعلی شادیوں پر مجبور کر رہے ہیں۔برطانوی ٹی وی کے مطابق سلواکیہ سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کو تین مرتبہ سمگل کر کے گلاسگو لایا گیا۔

بہت سے خواتین کو ان مردوں سے جعلی شادیوں پر مجبور کیا گیا جن میں اکثریت کا تعلق پاکستان سے تھا اور جو برطانیہ کی شہریت حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔یورپی یونین میں شامل ملکوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو سنہری خواب دکھا کر برطانیہ لایا جاتا ہے۔یورپول میں انسداد انسانی سمگلنگ کی اہلکار انجیلا مولنر نے کہا کہ متاثرہ خواتین جو رومانیہ اور سلواکیہ جیسے ملکوں میں غربت اور افلاس کی زندگیاں گزار رہی ہوتی ہیں انھیں روزگار کے بہتر مواقع کا جھانسہ دے کر سکاٹ لینڈ لایا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایسی خواتین کو سکاٹ لینڈ پہنچنے پر معلوم ہوتا ہے کہ نوکری تو کوئی نہیں پر انھیں کسی پاکستانی شخص سے فرضی شادی کرنا ہوگی۔مولنر نے کہا کہ شادی کے خواہش مند مرد برطانیہ کی شہریت حاصل کرنے کے لیے یورپی شہریت رکھنے والی کسی خاتون سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان فرضی شادیوں کے بعد خواتین جرائم پیشہ گروہوں کے شکنجے میں رہتی ہیں اور انھیں یا تو فرضی شوہروں کے گھروں میں گھریلو ملازماؤں کے طور پر رہنا پڑتا ہے جہاں ان کا جنسی استحصال بھی کیا جاتا ہے۔یورپی انسداد انسانی سمگلنگ کی اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ منشیات کے بعد سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار ہے اور جبری مشقت اور جنسی استحصال خواتین کو سکاٹ لینڈ سمگل کیے جانے کی دو بڑ ی وجوہات ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…