اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

سڑکوں پرسفید اور زرد لائنز کیوں بنائی جاتی ہیں؟ جانیئے وہ معلومات جو شائد آپ نہ جانتے ہوں

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)عام طورپرہم جب سفرکرتے ہیں توکئی ایسی چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں جن کی طرف ہم توجہ نہیں دیتے اوران کونظراندازکرکے ان کی حقیقت معلوم نہیں کرتے کہ ان کامقصد ہے ۔سفرکے دوران کچھ ایسی چیزیں ضروری بھی ہوتی ہے جن کوجاننااورسمجھنابہت ضروری ہے ۔دوران ہمارے سامنے مختلف قسم کے سائن بھی آتے ہیں جنہیں ہم نظر انداز کردیتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے بھی معنی ہوتے ہیں ۔

اسی طرح مختلف سڑکوں پرکچھ لائنزلگی ہوتی ہیں ان کامطلب کیاہوتاہے اوریہ کیوں لگائی جاتی ہیں ۔مختلف سڑکوں پرمختلف قسم کی لائنزہوتی ہیں جن کی اپنی نوعیت اوراہمیت ہوتی ہے اورڈرائیونگ کےلئے ان لائنوں کاجاننابھی ضروری ہے۔

غیر تقسیم شدہ سفید لائن:

غیر تقسیم شدہ سیدھی سفید لائنوں کا مطلب ہے کہ آپ اپنی لین کسی صورت تبدیل نہیں کر سکتے۔ یہ لائن شہر کی مرکزی اور مصروف شاہراہوں پر بنی ہوتی ہے تاکہ جلدی میں لوگ لین بدلنے سے باز رہیں اور سڑک پر کوئی حادثہ رونما نہ ہو۔

سڑک پرتقسیم شدہ سفید لائن:۔

کچھ سڑکوں پر سفید رنگ کی ٹوٹی ہوئی یا تقسیم شدہ لائنز بنی ہوتی ہیں۔ یہ عموماً ان سڑکوں پر ہوتی ہیں جو مرکزی شاہراہ سے ذیلی سڑک میں تبدیل ہو رہی ہوتی ہیں اور ان پر بہت کم ٹریفک ہوتی ہے۔ان پر بنی سفید لائنز کا مطلب ہے کہ آپ احتیاط کے ساتھ اپنی لین تبدیل کرسکتے ہیں یعنی ایک قطار سے دوسری قطار میں جا سکتے ہیں۔ لیکن احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھیں۔

غیر تقسیم شدہ ایک زرد لائن:۔
کسی سڑک پر ایک سیدھی زرد لائن آپ کو غیر معمولی احتیاط کے ساتھ گاڑی کراس کرنے کی ہدایت دیتی ہے۔

تقسیم شدہ زرد لائن:۔

ٹوٹی ہوئی زرد لائنوں کا مطلب ہے کہ آپ اپنی آگے والی گاڑی کو کراس کرسکتے ہیں لیکن ایسا کرنے سے پہلے آس پاس کے ٹریفک اور راہ گیروں کا خیال رکھیں۔

دو زرد لائنیز:۔

سڑک پر دو سیدھی زرد لائنیں آپ کو اپنی لین میں سیدھا گاڑی چلانے کا انتباہ کرتی ہیں۔ اس لائن کا مطلب ہے کہ گاڑیوں کو کراس کرنے کی کوشش ہرگز مت کریں۔

ایک تقسیم شدہ زرد لائن اورایک سیدھی لائن:۔
ایک تقسیم شدہ زرد لائن اورایک سیدھی لائن کا مطلب ہے کہ اگر آپ تقسیم شدہ لائن کے ساتھ چل رہے ہیں تو آپ اگلی گاڑی کو کراس کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…