بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

لاہورمیں میں ایسا شرمناک کاروبارشروع ہوگیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) لاہورمیں اے لیول کی جعلی ڈگریاں بننے کا انکشاف، ایک لاکھ روپے میں اے لیول کی ڈگری فروخت ہونے لگیں ‘یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں اے لیول کی جعلی ڈگری پر داخلہ لینے والے طالبعلم کو پکڑ لیا گیا، جعلی ڈگری بنانے میں لاہور بورڈ کا سیکریسی آفیسر ملوث ہونے کا انکشاف ہواہے۔یونیورسٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ لاہور بورڈ کا ملازم جعلی ڈگری بنانے کے کاروبار میں ملوث ہے،

تفصیلات  کے مطابق یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی میں اے لیول کی جعلی ڈگری پرداخلہ لینے کی کوشش کرنے والے طالبعلم کو پکڑنے کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے ابتدائی تحقیق کی گئی جس پر ٹان شپ تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کرا دی گئی ہے یونیورسٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ لاہور بورڈ کا ملازم جعلی ڈگری بنانے کے کاروبار میں ملوث ہے، یو ایم ٹی کی جانب سے درج کرائی جانے والی ایف آئی آر کے متن کے مطابق لاہور بورڈ کے سیکریسی آفیسر عبد الجبار کی معاونت سے اے لیول کی جعلی ڈگری بنوائی گئی ہے جس پر یونیورسٹی نے بورڈ حکام کو بھی بذریعہ خط آگاہ کر دیا ہے یونیورسٹی کیمطابق اے لیول کی جعلی ڈگری کی تصدیق اس وقت ہوئی جب ریکارڈکی چھان بین کرائی گئی تو طالبعلم کا نام ہی ریکارڈ میں موجود نہیں تھا یو ایم ٹی نے پولیس حکام کو بھی جعلی ڈگری بنانے میں ملوث گروہ کو پکڑنے کی درخواست جمع کرادی ہے جبکہ ایف آئی آرکی بنیاد پر ٹان شپ تھانے کی پولیس نے کارروائی کا آغاز کر دیا ۔ یونیورسٹی کیمطابق اے لیول کی جعلی ڈگری کی تصدیق اس وقت ہوئی جب ریکارڈکی چھان بین کرائی گئی تو طالبعلم کا نام ہی ریکارڈ میں موجود نہیں تھا یو ایم ٹی نے پولیس حکام کو بھی جعلی ڈگری بنانے میں ملوث گروہ کو پکڑنے کی درخواست جمع کرادی ہے جبکہ ایف آئی آرکی بنیاد پر ٹان شپ تھانے کی پولیس نے کارروائی کا آغاز کر دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…