جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

کاجل کی ایسی ویڈیووائرل ہو گئی کہ بھارتی عوام آگ بگولہ ہو گئی، ایسا کیا تھا ویڈیو میں ؟

datetime 3  مئی‬‮  2017 |

ممبئی(این این آئی) بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کاجول نے ہندو انتہا پسندوں کے خوف سے گائے کے گوشت سے بنی ڈش کو بھینس کے گوشت کی ڈش قرار دے دیا۔بالی ووڈ اداکارہ کاجول کی گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ممبئی میں اپنے قریبی دوست کے ریسٹورنٹ کی افتتاحی تقریب میں چند دوستوں کے ساتھ کھانا کھارہی ہیں اور ویڈیو میں ان کا دوست گوشت سے بنی ڈش کے حوالے سے بتا رہا ہے

جب کہ اداکارہ کی گوشت سے بنی ڈش کھانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد تیزی سے وائرل ہوئی جس پر اب انہوں نے انتہا پسندوں کے خوف سے بیان ہی بدل دیا ہے۔بھارت میں مسلمانوں پر ہندو انتہا پسندوں نے عرصہ دراز تنگ کیا ہوا ہے اور گائے کا گوشت کھانے کے شبے پر  کئی افراد کو صفائی کا موقع دیئے بغیر ہی قتل کیا جاچکا ہے لیکن اب بالی ووڈ کی ہندو اداکارہ کاجول گوشت کھانے کے معاملے پر انتہا پسندوں سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ ایک ہی رات میں اپنے بیان سے مکر گئی ہیں۔اداکارہ کاجول نے گوشت سے بنی ڈش کھانے کی ویڈیو انسٹاگرام سے ہٹا دی ہے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ  میں کہا کہ دوستوں کے ساتھ کھانے کی ٹیبل پر گائے کے گوشت کی بجائے بھینس کے گوشت  سے بنی ڈش موجود تھی جس کے حوالے سے غلط فہمی پیدا ہوئی ہے جب کہ میں وضاحت کرنا ضروری سمجھتی ہوں کہ یہ ایک مذہبی اور حساس معاملہ ہے  جس میں دل آزاری کا کوئی مقصد نہیں تھا۔دوسری جانب کاجول کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے اور انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جب کہ بعض افراد نے کاجول کو گائے کا گوشت کھانے پر انتہا پسندوں کی جانب سے خاموشی پر بھارت میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔واضح رہیکہ بھارت میں گائے کا گوشت کھانے کے شب میں اب تک کئی مسلمانوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…