منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

’’اور بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ‘‘

datetime 28  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انسانی جسم میں اللہ نے معلومات کا حیرت انگیز منبہ ڈی این اے کی شکل میں رکھا ہے 145 یہ جسم میں موجود خلیوں کے اندر انسان کی ساریداستاں چھپائے ہوئے ہیں اور ابتدائے آفرینش سے لے کر موجودہ نسلِ آدم کا ہر سراغ اسی ڈی این میں چھپا ہے۔

ڈی این اے کی لمبائی حیرت کا ایک سمندر ہے۔ ایک انسانی خلیے میں تقریباً چھ فٹ لمبا ڈی این اے کا دھاگہ پایا جاتا ہے۔ ایک مکمل انسان کے تمام خلیوں کے ڈی این اے کو لمبائی کے رخ پر جوڑا جائے تو اس کی لمبائی تقریباً گیارہ ارب کلومیٹر بنتی ہے جو زمین کے سورج کے فاصلے سے سترگنا سے بھی زائد ہے۔یعنی ایک جدید ترین الٹرا سانک طیارہ جس کی رفتار آواز سے آٹھ گنا تیز ہے وہ اس فاصلے کو سوا صدی میں طے کرے گا۔ اگر ایک ٹائپسٹ 60الفاظ فی منٹ کی رفتار سے 8 گھنٹے روزانہ ڈی این اے کے نیوکلیوٹائیڈز کو ظاہر کرنے والے مخفف حروف تہجی ہی کو ٹائپ کرے تو بغیر کسی چھٹی اور آرام کے بغیر پندرہ سال میں صرف ایک خلیے کا ڈی این اے لکھا جا سکتا ہے۔جبکہ اس سے جو کتاب تیار ہو گی اگر اس کے ایک صفحے پر پانچ سو الفاظ ہوں اور کل 1000 صفحات ہوں تو ایسی 280 کتابیں تیار ہوں گی جن پرصرف ایک خلیے کی معلومات ہوں گی۔ایک انسان کے تمام خلیوں کی معلومات لکھنے کے لیے روئے زمین کے تمام وسائل ناکافی ہیں۔ اتنی لمبائی کے باوجود یہ انتہائی کم جگہ گھیرتا ہے۔ ڈیاین اے کے دس لاکھ نیوکلیوٹائیڈ اتنی جگہ گھیرتے ہیں جتنی جگہ پر کمپیوٹر ایک میگا بائٹ ڈیٹا سٹور کرتا ہے۔ اور ایک خلیے کا مکمل ڈی این اے 3 گیگا بائٹ جگہ گھیرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…