جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کی تشکیل ٹیم کی قیادت کونسا دبنگ آفیسر کرے گا؟

datetime 27  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے 6 اداروں کے عہدیداروں پر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جےآئی ٹی ) کے ناموں کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی۔واضح رہے سپریم کورٹ نے20 اپریل کو اپنےفیصلےمیں فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، نیشنل احتساب بیورو (نیب)، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)،

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی ) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی ) کو ایک ہفتے میں نام جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔سپریم کورٹ نےمتعلقہ اداروں کو 3،3 نام فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی جہاں سپریم کورٹ 6 رکنی جے آئی ٹی کے لیے ہرادارے سے ایک نام چن لے گی۔جے آئی ٹی کی سربراہی ایف آئی اے کے سینیئرافسر کریں گے جو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سے کم گریڈ کا نہیں ہوگا اور یہ ذمہ داری وائٹ کالر کرائم کی تفتیش میں تجربہ رکھنے والےکسی دبنگ افسر کو سونپی جائے گی۔ٹیم میں متعلقہ ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے نامزد کردہ نیب کا ایک رکن، ایس ای سی پی کے نامزد منی لانڈدرنگ اور وائٹ کالر کرائم سے واقفیت رکھنے والے ایک افسر، ایس بی پی کا ایک افسر، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے عہدیدران شامل ہوں گے۔ابتدائی طور پر  ایف آئی اے نے تین ڈائریکٹرجنرل واجد ضیا، احمد لطیف اور ڈاکٹر شفیق کے نام فراہم کردیے ہیں۔ سپریم کورٹ ان میں سے کسی کو جے آئی ٹی کی سربراہی کے لیے چن لے گی۔واجد ضیا کا تعلق پولیس کیڈر سے ہے جنھوں نے انٹیلی جنس بیورو ( آئی بی) میں بھی خدمات سرانجام دی ہیں اسی طرح احمد لطیف بھی یہی تجربہ رکھتے ہیں۔وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے 6 اداروں کے عہدیداروں پر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جےآئی ٹی ) کے ناموں کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…