ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ بیٹھے ہوئے تھے، چراغ کی لو کم ہو گئی جس کی وجہ سے چراغ بجھنے کے قریب ہو گیا، اب وہ امیر المومنین تھے، وہ چاہتے تو خادموں میں سے کسی کو حکم کر دیتے کہ چراغ کو ٹھیک کر دو، مگر وہ خود اٹھے اور انہوں نے خود ہی چراغ کو درست کر دیا،
کسی نے کہا جی! آپ کسی غلام کو یہ حکم دے دیتے، فرمایا: جب میں اسے ٹھیک کرنے لیے اٹھا تو اس وقت بھی عمربن عبدالعزیز تھا اور جب میں نے اس کو ٹھیک کر لیا تو اب بھی عمر بن عبدالعزیز ہوں، سبحان اللہ! مٹنے والے ایسے مٹتے ہیں اور اللہ رب العزت مٹنے والوں کو دنیا میں ایسے نوازتے ہیں۔



















































